.

ایرانی دھمکیوں کے سبب بصرہ میں امریکی قونصل خانے کی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں خون ریز احتجاجی مظاہروں کے بعد جمعے کے روز اپنا قونصل خانہ بند کر دیا۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بصرہ میں تمام امریکی ملازمین کو "باقاعدہ کوچ کر جانے" کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ قونصل خانے کی خدمات بغداد میں امریکی سفارت خانہ فراہم کرے گا۔

پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ "کئی ہفتوں سے عراق میں ہمارے ملازمین اور ساتھیوں کے لیے دھمکیوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان دھمکیوں کا ذریعہ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے علاوہ وہ ملیشیائیں ہیں جن کو القدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی چلا رہا ہے"۔

امریکی وزیر خاجہ نے واضح کیا کہ "بصرہ میں ہمارے قونصل خانے کی جانب بالواسطہ فائرنگ کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "میں ایران کو یہ واضح کر چکا ہوں کہ امریکی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا واشنگٹن فوری اور مناسب صورت میں جواب دے گا۔ تہران حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ عراق یا کسی بھی دوسری جگہ پر امریکیوں یا ہماری سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی براہ راست ذمّے داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ خواہ یہ ضرر براہ راست ایرانی فورسز کی جانب سے پہنچے یا پھر اس سے متعلق کسی ملیشیا کی جانب سے"۔

وہائٹ ہاؤس نے ستمبر کے وسط میں خبردار کیا تھا کہ عراق میں امریکی شہریوں یا امریکی مفادات کے خلاف تہران نواز گروپوں کے کسی بھی حملے کا ذمّے دار ایران کو ٹھہرایا جائے گا۔