.

عراقی وزیرخارجہ ’بغداد‘ کی تاریخ سے ’نابلد‘ نکلے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی ملک کے لیڈر کا اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر خطاب کوئی عام گفتگو نہیں ہوتی بلکہ تقریر کے دوران پیش کیے جانے والے مواد حوالے بھی محتاط انداز میں پیش کرنا ہوتے ہیں۔ اس موقع پر کوئی معمولی غلطی بھی بڑی بدنامی کا موجب بن سکتی ہے، جیسا کہ عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری کے ساتھ ہوا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ابراہیم الجعفری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عراقی قوم کے بقائے باہمی کی زریں روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فاش تاریخی غلطی کے مرتکب ہوئے۔

اُنہوں نے اپنے دعوے کے جوازکے لیے 2300 قبل مسیح میں گذرنے والے ’سرجون الاکدی‘ نامی بادشاہ کے نام ایک جملہ منسوب کیا کہ ’بغداد پوری دُنیا کے لیے گنبد کی حیثیت رکھتا ہے، جو اس پر حکومت کرے گا وہ چہار سو حکومت کرے گا‘۔

ابراہیم الجعفری کے اس دعوے کے حوالے سے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار عدی الھاشمی نے کہا کہ ’سرجون الاکدی‘ الاکدیہ نسل کا بادشاہ گذرا ہے جس نے اسی نسل کی بنیاد بھی رکھی۔ اس خاندان نے دریائے دجلہ اور فرات کے اطراف [المعروف وادی الرافدین] میں بسنے والے کے ایک وسیع حصے اور مشرق وسطیٰ پر 2300 قبل مسیح حکومت کی، جب کہ بغداد شہر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے 764ء کو بنایا۔

یوں بغداد کے قیام اور سرجون الاکدی کے درمیان 3000 سال کا فاصلہ ہے۔ عراقی وزیر خارجہ کی بات حیران کن ہے کہ انہیں یہ اندازہ تک نہیں کہ بغداد شہر کا قیام کب اور کس کے دور میں ہوا۔ وہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر ایک ایسی تاریخی غلطی کے مرتکب ہوئے جس کی کوئی گنجائش نہیں۔

ابراہیم الجعفری اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے پہلے بھی مشہور رہ چکے ہیں۔ سنہ 2015ء کو انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ ’ہمیں داعش کے حوالے سے فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘۔ اس پر عراقی سیاسی قیادت بھی حیران تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنا بیان واپس لیے لیا تھا۔