.

فیلق الشام، ادلب کے غیر فوجی علاقے سے نکلنے والا پہلا اپوزیشن گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ سوچی میں ترکی اور روس کے درمیان سربراہ ملاقات میں ادلب کے حوالے سے سمجھوتے کے تحت فیلق الشام نامی مسلح جماعت نے شمال مغربی شام میں ہتھیاروں سے خالی علاقے سے اپنے جنگجوؤں اور بھاری ہتھیاروں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔

المرصد کے مطابق یہ پہلی مسلح جماعت ہے جس نے ہتھیاروں سے خالی علاقے سے کوچ کرنے کے مطالبے پر عمل درامد شروع کیا ہے۔ المرصد نے بتایا کہ "انقرہ سے مقرّب گروپ 'فیلق الشام الاسلامی' اتوار کی صبح سے حلب کے جنوبی دیہی اور حلب شہر کے مغربی نواحی علاقوں سے اپنے ٹینکوں اور توپ خانوں کا انخلاء عمل میں لا رہا ہے۔ یہ علاقہ ہتھیاروں سے خالی زون میں شامل ہے"۔

المرصد نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ ترکی نے اِدلب میں شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے ساتھ اجلاس میں مطالبہ کیا تھا کہ جن علاقوں کو ہتھیاروں سے خالی زون قرار دیا گیا ہے، وہاں سے ان گروپوں کا انخلاء شروع کر دیے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ علاقہ شام کے چار صوبوں ادلب، حلب، حماہ اور لاذقیہ میں پٹی کی صورت میں 15 سے 20 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کے ایک گروپ "جيش العزّہ" نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں ادلب صوبے اور اس کے اطراف اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہتھیاروں سے خالی زون کے قیام کے حوالے سے روس اور ترکی کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ کسی بھی غیر شدت پسند تنظیم کی جانب سے پہلا اعلانیہ انکار ہے۔

ٹوئیٹر پر جاری بیان میں جیش العزہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپوزیشن کی جانب غیر فوجی علاقے کے قیام کو مسترد کرتی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ شامی حکومت کی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھی ہتھیاروں سے خالی زون میں شامل کیا جائے۔ علاوہ ازیں تنظیم نے شام کی آزاد کرائی جانے والی تمام اراضی پر قابض روسی فوج کے دستوں کے گشت کو بھی مسترد کر دیا۔ جیش العزہ کے سربراہ جمیل الصالح نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس معاہدے کے خلاف ہیں جو آزاد کرائے جانے والے علاقوں کو کاٹ کر علاحدہ کر رہا ہے اور ایک بار پھر بشار الاسد کو واپس لانے پر کام کر رہا ہے"۔

واضح رہے کہ سوچی میں روس ترکی سربراہ ملاقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے معاہدے کے تحت ادلب کے اطراف اور اس کے پڑوس میں صوبوں کے بعض حصوں میں 15 سے 20 کلو میٹر تک ہتھیاروں سے خالی زون قائم کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں شمالی حماہ کا دیہی علاقہ، مغربی حلب کا دیہی علاقہ اور شمالی لاذقیہ کا دیہی علاقہ شامل ہے۔

اپوزیشن گروپوں کے آخری گڑھ ادلب کو بشار حکومت کے ممکنہ وسیع حملے سے بچانے کے لیے طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق ،،، ہتھیاروں سے خالی زون میں موجود تمام گروپوں کو 10 اکتوبر تک اپنا بھاری اسلحہ حوالے کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں شدت پسند عناصر کو 15 اکتوبر تک علاقے سے مکمل طور پر نکل جانا ہو گا، جس کے بعد ترک فورسز اور روس کی فوجی پولیس علاقے میں تعینات ہو جائے گی۔