.

مصری عدالت کا اخوان کے مرشدِعام کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے کالعدم جماعت الاخوان المسلمون کے مرشدِ عام محمد بدیع اور دوسرے سینیر رہ نماؤں کے خلاف ایک مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کے مطابق محمد بدیع اور دوسروں کے خلاف 7 اکتوبر سے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جائے گی۔اس مقدمے کا تعلق 2013ء میں دارالحکومت قاہرہ میں اخوان کے صدر دفاتر کے باہر جماعت مخالف مظاہرے کے شرکاء کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے سے ہے۔محمد بدیع اور دوسرے رہ نماؤں نے مبینہ طور پر اپنے حامیوں کو مظاہرے کے شرکاء پر تشدد کی شہ دی تھی۔

پہلے ایک فوجداری عدالت نے فروری 2015ء میں مرشد عام سمیت اخوان کے پندرہ رہ نماؤں کو عمرقید کی سزائیں سنائی تھیں اور چار افراد کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

اب مصر کی قدیم مگر کالعدم مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کے خلاف اس مقدمے میں نئے الزامات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان میں مظاہرین کے خلاف تشدد کی شہ دینے اور انھیں مار پیٹ کرنے میں معاونت کے الزامات شامل ہیں۔دو مدعا علیہان کے خلاف موت کا سبب بننے ، مظاہرین کی جسمانی ہیئت بگاڑنے اور ہتھیار رکھنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مینا نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ملزموں کے خلاف الزامات میں ترمیم وتبدیلی کیوں کی گئی ہے ۔البتہ مصری قانون کے تحت نئے شواہد منظرعام پر آنے کی صورت میں فرد الزام کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

قاہرہ کی فوجداری عدالت کے مقدمے کی دوبارہ سماعت سے متعلق اس نئے حکم سے صرف زیر حراست افراد متاثر ہوں گے اور جن کے خلاف عدالت میں ان کی عدم موجودگی میں سماعت کی گئی تھی ،ان پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔اخوان کی جن دوسری سرکردہ شخصیات کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جارہی ہے،ان میں سینیر رہ خیرت الشاطر بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مصرکی عدالتوں نے جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے الاخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں رہ نماؤں اور کارکنان کو تھوک کے حساب سے قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔وہ اس وقت مختلف جیلوں میں قید بھگت رہے ہیں لیکن اب تک کسی بڑے رہ نما کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔

قاہرہ کی فوجداری عدالت نے چند ہفتے قبل ہی الاخوان کے 75 ارکان کو 2013ء میں احتجاجی دھرنوں اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔عدالت نے محمد بدیع سمیت سینتالیس افراد کو ان ہی الزامات میں عمرقید کی سزائیں سنائی تھیں۔