اِدلب کے گروپوں نے غیر فوجی علاقے میں روس کی موجودگی کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں نیشنل لبریشن فرنٹ تنظیم نے جس میں ادلب صوبے اور اس کے اطراف کے نمایاں ترین اپوزیشن گروپ شامل ہیں، ترکی کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان دو ہفتے قبل طے پائے گئے معاہدے کے تحت ہتھیاروں سے خالی علاقے میں روس کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گی۔

گزشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو روس اور ترکی کے بیچ ہونے والے اس سمجھوتے نے ادلب صوبے کو ایک وسیع حملے سے بچا لیا۔ اس حملے کی تیاری شامی حکومت کی فورسز کئی ہفتوں سے کر رہی تھیں۔

معاہدے کی رُو سے ہتھیاروں سے خالی غیر فوجی علاقہ ادلب اور اس کے پڑوسی صوبوں کے کچھ حصوں میں 15 سے 20 کلو میٹر اندر تک ہو گا اور یہاں ترکی کی فورسز اور روس کی ملٹری پولیس تعینات کی جائے گی۔

نیشنل لبریشن فرنٹ کے سرکاری ترجمان نے ٹیلی گرام پر تنظیم کے پیج پر اتوار کو رات گئے جاری ایک بیان میں کہا کہ "ترکی کے ساتھ طویل گفتگو میں طے پائے گئے معاہدے کی تمام شقیں زیر بحث آئیں۔ نیشنل فرنٹ نے اجلاس کے دوران روسی وجود کو یکسر مسترد کر دیا۔ ترکی نے وعدہ کیا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا"۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق نیشنل لبریشن فرنٹ کے نام سے شامی اپوزیشن گروپوں کے اس اتحاد میں تقریبا 30 ہزار جنگجو ہیں۔

روس اور ترکی کے معاہدے کے تحت تمام شامی گروپوں کو دس اکتوبر تک متعین علاقے سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹا لینا ہو گا جب کہ پندرہ اکتوبر تک تمام شدت پسندوں کو وہاں سے نکل جانا ہو گا۔

المرصد نے اتوار کی صبح بتایا تھا کہ نیشنل لبریشن فرنٹ میں شامل ایک گروپ فیلق الشام نے حلب کے مغربی اور جنوبی دیہی علاقوں سے اپنے فوجی ٹینکوں اور توپ خانوں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے تاہم بعد ازاں فیلق الشام نے اس کی تردید کر دی تھی۔

ہیئۃ تحریر الشام (سابقہ النصرہ فرنٹ) عملی طور پر روس اور ترکی کے درمیان طے پائے گئے معاہدے پر عمل درامد کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ ہے۔ اس لیے کہ تحریر الشام اور اس کے حلیف گروپ مجوزہ غیر فوجی علاقے کے 70% رقبے کا کنٹرول رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں