شام: 18 ہزار افراد کا خون روس کی گردن پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آبزر ویٹری فارہیومن رائٹس‘ کے مطابق گذشتہ تین برسوں کے دوران روسی فوج نے شام میں 18 ہزار افراد کو بمباری میں قتل کیا۔ ان میں نصف تعداد عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی فوج نے شام میں اپنے حلیف بشارالاسد کے دفاع میں 30 ستمبر 2015ء کو شامی باغیوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

گذشتہ تین برسوں کے دوران روسی فوج کےفضائی اور زمینی حملوں میں 18 ہزار96 افراد لقمہ اجل بنے۔ مارے جانے والے افراد میں زیادہ تر جنگجو ہیں جب کہ 7988 عام شہریوں کا خون بھی روسی فوج کی گردنوں پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق روسی فوج کے حملوں میں شام میں ’داعش‘ کے 5233 اور کئی سو دوسرے انتہا پسند جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے شام میں روسی فوجی آپریشنز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ روس پر الزام ہے کہ وہ بمباری کے دوران بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کو بھی اندھا دھند نشانہ بنا کر اسے تباہ کرتا رہا ہے۔

شام میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش انسانی حقوق گروپ ’وائٹ ہیلمٹ‘ کے مطابق سنہ 2015ء کے بعد روسی بم باری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور ان میں پناہ لینے والے خواتین، بچے اور دیگر افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق روسی فوج کے فضائی حملوں میں شام میں 19 اسکول، 12 بازار،20 اسپتال اور 21 ریسکیو اور امدادی مراکز تباہ ہوئے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں عالمی اتحادی فوج کے ’داعش‘ کے خلاف آپریشن میں 3300 عام شہری مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں