عراق: صدارتی منصب کی خاتون امیدوار کو دھمکیوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کردستان الائنس سے تعلق رکھنے والی سابق رکن پارلیمنٹ اور عراقی صدارتی امیدوار سروہ عبدالواحد کا کہنا ہے کہ انہیں دست بردار ہونے کے لیے دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت عراقی پارلیمنٹ کے اُس اجلاس سے قبل سامنے آئی ہے جس میں ملک کے صدر کے چناؤ کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اتوار کے روز اپنی ایک ٹوئیٹ میں سروہ نے مزید لکھا کہ ان کی نامزدگی سیاسی جماعتوں کے فیصلے نہیں ہوئی کہ وہ ان جماعتوں کی طرف سے دست برداری کے مطالبے کے آگے جھک جائیں۔ سروہ نے واضح کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور صدارت کی دوڑ سے ہر گز دست بردار نہیں ہوں گی۔

ادھر سیاسی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نوری المالکی کے زیر قیادت "اسٹیٹ آف لاء" الائنس نے صدر کے منصب کے لیے کردستان نیشنل یونین کے نامزد امیدوار برہم صالح کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ المالکی نے الائنس کی میٹنگ میں آئندہ حکومت کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ہتھیاروں کو ریاست کے ہاتھوں تک محدود کیا جا سکے۔

دوسری جانب باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک وفد اتوار کے روز بغداد پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت پارٹی کے رہ نما اور عراقی کردستان کے سابق نائب صدر کوسرت رسول کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت عراق میں دونوں بڑی کرد جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام الفتح الائنس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ عبدالامیر التعیبان نے اتوار کے روز سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا تھا کہ کردستان نیشنل یونین پارٹی کے رہ نما کوسرت رسول کو بغداد میں داخل ہوتے ہی گرفتار کیا جائے۔ یاد رہے کہ کوسرت رسول کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکا ہے۔ کوسرت نے کردستان کی آزادی کے ریفرینڈم کے بعد وفاقی فورسز کے کردستان ریجن میں داخل ہونے پر انہیں قابض فوج قرار دیا تھا۔ التعیبان کا کہنا تھا کہ مذکورہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درامد سے گریز کیا جانا درحقیقت سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کی قربانی کی اہانت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں