یمن کے ساحل کے قریب ایران کا مشتبہ بحری جہاز "العربیہ" کی نظروں میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ نے ایک ایرانی بحری جہاز "ساويز" کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے جو 3 برس سے بحر احمر کے بین الاقوامی پانی میں یمن کے ساحل کے نزدیک کھڑا ہوا ہے۔

یہ ایرانی جہاز تجارت کے پردے میں رہ کر عسکری سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ اس سے قبل وہ ماہرین کو ایران سے یمن منتقل بھی کر چکا ہے۔

ساویز جہاز اقوام متحدہ کے زیر انتظام انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ یہ اس وقت یمن کے ساحل سے 87 سمندری میل کے فاصلے پر موجود ہے۔

یہ بحری جہاز 150 میٹر لمبا ہے اور اس کو جنگی جہازوں کی طرح 50 ایم ایم کی چار مشین گنوں سے لیس کیا گیا ہے۔

جہاز کے عرشے پر دو فوجی کشتیوں کے علاوہ 16 سے زیادہ کثیر المقاصد مشینیں موجود ہیں۔ ان میں ریڈار، سماعت اور نگرانی کے آلات اور جدید ترین عسکری رابطوں کا نظام شامل ہے۔

العربیہ کے کیمرے نے ساویز جہاز کی ایک عسکری کشتی کی نقل و حرکت کو فلم بند کیا جو ایک دوسرے ایرانی تجارتی جہاز "ارزين" کی جانب تیزی سے جا رہی تھی۔ کشتی نے ایک بھاری حجم اور وزن کی کھیپ لی اور پھر اسے "ساویز" منتقل کیا۔

بین الاقوامی جہاز رانی کے نظام کے مطابق بحر احمر میں "ساویز" جہاز کا اس طرح موجود رہنا ایک غیر مانوس امر ہے۔ اس لیے کہ یہ اُس نوعیت کے جہازوں میں سے نہیں ہے جو سمندر کے نیچے کھدائی میں کام آتے ہیں یا پھر سرچ آپریشن انجام دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں