.

ریاست کی لُوٹی گئی اربوں کی رقم واپس لینے کے لیے حوثیوں پر دباؤ ڈالا جائے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے مرکزی بینک کے لیے امداد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن کی ریاست سے لُوٹے جانے والے اربوں ریال کی واپسی کے لیے حوثیوں پر دباؤ ڈالا جائے۔

منگل کے روز اپنی ٹوئیٹ میں اماراتی وزیر نے لکھا کہ "یمنی ریال کی قدر میں شدید مندی وہاں کے شہریوں کے لیے بنیادی چیلنج ہے جو غذائی اشیاء کی فراہمی سے زیادہ متاثر کرنے والا امر ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایسے میں برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے یمنی ریال کی سپورٹ کا منصوبہ ان حالات میں بہت اہم ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری حوثیوں پر دباؤ ڈالے تا کہ وہ ریاست کی آمدنی سے لوٹے گئے 5 سے 6 ارب ڈالر کا کچھ حصّہ حوالے کر دیں اور وہ یمنی ریال کی سپورٹ میں کام آئے"۔

اس سے قبل پیر کے روز خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یمن کے مرکزی بنک کو مالی بحران سے بچانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد یمنی کرنسی کی قیمت میں کمی کو روکنا اور بنک کو مالی بحران سے بچانا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے مرکزی بنک کے لیے یہ پہلی امداد نہیں بلکہ یمنی عوام کو درپیش اقتصادی بوجھ کم کرنے کے لیے سعودی عرب یمن کے مرکزی بنک کو 3 ارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکا ہے۔