.

کیا عراق اب اہلِ تشیع کے مختلف گروپوں کے درمیان خانہ جنگی کا میدان بننے والا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں مئی میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد صدری تحریک سے وابستہ کارکنان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر تار تار کردی ہیں ۔اس سے اب ملک میں اہل تشیع کے درمیان نئی باہمی آویزش کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں اور ان کے مختلف گروپوں میں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

اس بات کا انکشاف معروف انگلش جریدے اکنامسٹ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اس کے مطابق اب سیاسی کشیدگی تشدد کا رُخ اختیار کررہی ہے اور اس نے بغداد کے گرین زون سے باہر کا بھی پھیلنا شروع کردیا ہے۔اگرچہ امریکی اور ایرانی کمانڈر داعش کے خلاف جنگ میں اکٹھے نظر آئے تھے لیکن اب وہ باہم گتھم گتھا ہوتے نظر آرہے ہیں۔

مئی میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد ایران عراقی پارلیمان میں 200 سے زیادہ ارکان پر مشتمل ایک ’ شیعہ ایوان‘ چاہتا تھا۔اس کو 329 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں نمایندگی کے حامل مختلف شیعہ گروپوں میں سے تشکیل دیا جانا تھا ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے مخالف بلاک المعروف البنا ( تعمیرِ نو ) کے 109 ارکان ہیں۔ طرفین میں سے کسی گروپ کے پاس بھی صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے سادہ اکثریت نہیں ہے۔اس کے پیش نظر ایران نے اپنا جھکاؤ اپنی سرحد کے نزدیک واقع ایران کے جنوبی صوبے بصرہ کی جانب کر لیا ہے۔اس پر جو عراقی ایران کو اپنا اتحادی خیال کیا کرتے تھے،ان کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں۔

زائرین کی کثرت

عراق کے شہروں میں گذشتہ دو ایک ماہ کے دوران میں ایک جانب تو شیعہ ایرانی زائرین کی کثرت سے آمد ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب عراق کے قوم پرست بلاک کو بھی تقویت ملی ہے اور سرکردہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کو نماز جمعہ اور دوسرے اجتماعات میں کھلے عام ’ایران باہر جاؤ‘ ، ’ایران باہر جاؤ‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سنا گیا ہے ۔

مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت انتخابی بلاک نے عام انتخابات میں پارلیمان کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ان کے حامیوں نے بغداد سے متصل صدر سٹی میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں ایرا ن نواز شیعہ ملیشیاؤں کے لیڈرو ں کو صدام حسین سے بھی بدتر قرار دیا ہے حالانکہ ایک وقت میں وہ ان ہی ملیشیا لیڈروں کی داعش کو عراق کے شہروں سے بے دخل کرنے پر تعریف بھی کرتے رہے ہیں۔

اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے جنوبی شہر نجف سے تعلق رکھنے والے آیت اللہ علی السیستانی ایسے سینیر شیعہ علماء ماضی میں بحرانوں کے خاتمے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ان کی اتھارٹی کو بھی محدود کردیا گیا ہے جبکہ غیر وابستہ کرد دور کسی نکڑ میں کھڑے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

’’بعض بااثر آوازوں نے سمجھوتے پر زور دیا ہے ۔ملیشیاؤں کے لیڈر اور سیاست دانوں دونوں ہی قتل وغارت اور شیعہ کی شیعہ سے خانہ جنگی کا دور لوٹنے کی باتیں کررہے ہیں اور کئی ماہ پُرسکون خاموشی کے بعد بغداد کی شاہراہوں پر دوبارہ کار بم دھماکوں کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں‘‘۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے۔