.

اسد رجیم کےعقوبت خانوں میں تشدد سے 41 قیدی موت کی نیند سلا دیئے گئے

دوران حراست ہلاک ہونے والے دو فن کار بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اسد رجیم کےزیرانتظام قائم کردہ عقوبت خانوں میں قیدیوں سے غیرانسانی اور وحشیانہ سلوک جاری ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اسد رجیم کی جیلوں میں مزید 41 قیدیوں کو تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان میں ایک موسیقار، ایک بچہ اور ایک کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دمشق اور درعا سے تعلق رکھنے والے 22 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان میں درعا کے 11 اور دمشق کے بھی 11 قیدی شامل ہیں۔

دوران حراست ہلاک کیے جانے والوں میں ایک 17 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جسے 6 جون 2016ء کو جنوبی دمشق میں یرموک پناہ گزین کیمپ سے پکڑا گیا۔ اس پر مسلسل تشدد کیا جاتا رہا۔ انسانی حقوق کے اداروں نے24 ستمبر کو اس کی دوران حراست تشدد کے نتیجے میں موت کی تصدیق کردی تھی۔

دوران حراست مقتولین میں کھلاڑٰ علاء عبداللہ الجندی بھی شامل ہیں۔ وہ درعا گورنری میں فٹ بال کلب کے رکن تھے 11 ستمبر کو دوران انہیں قتل کردیا گیا۔ اسے 11 جولائی 2014ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔

شامی جیل میں انسانیت سوز تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک فلسطینی موسیقار محمد دیب محمود ابو الرز بھی شامل ہیں۔ انہیں 2014ء کو یرموک پناہ گزین کیمپ سے گرفتار کیا گیا اور مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران شام کی جیلوں میں دوران حراست 933 افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ان میں سے 911 قیدیوں کو اسدی فوج نے تشدد کرکے ہلاک کیا۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ شام میں اسد رجیم اور اس کی حامی ملیشیاؤں نے 80 ہزار افراد کو جبری اغواء کے بعد غائب کیا۔ انہیں یا تو ہلاک کردیا گیا یا انہیں عقوبت خانوں میں ڈالا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسد رجیم کی جیلوں میں اس وقت بھی 2 لاکھ 20 ہزار افراد پابند سلاسل ہیں۔ روزانہ کئی افراد کو تشدد کرکے موت کےگھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق 2011ء سے 2015ء تک اسد رجیم کی جیلوں میں 17 ہزار افراد کو قتل کردیا گیا۔ قیدیوں کو ہلاک کرنے کے لیے تشدد کے غیرانسانی ہتھکنڈوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بیمار اور زخمی قیدیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو علاج کی سہولت نہ ملنے کےباعث تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں۔