عراق : صدر بلاک نئی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گا

مقتدیٰ الصدر کا عادل عبدالمہدی کو عراقی عوام کے سامنے کارکردگی دکھانے کے لیے پورا ایک سال دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کی پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستوں کے حامل سائرون بلاک کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے نامزد وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی قیادت میں نئی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں اپنے اتحاد کے منتخب ارکان سے کہا ہے کہ وہ کوئی وزارتی عہدہ قبول نہ کریں ۔مقتدیٰ الصدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ ایک آزاد شخصیت عادل عبدالمہدی کو وزیراعظم مقرر کرانے میں کامیاب رہے ہیں۔انھوں نے اپنے پارلیمانی بلاک کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئی حکومت میں شامل نہ ہوں تاکہ نامزد وزیراعظم کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے زیادہ آپشنز دستیات ہوسکیں ۔

انھوں نے ٹویٹ میں عادل عبدالمہدی کی نامزدگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزاد شخصیت ہونے کے علاوہ ان کا دامن بھی حکومت کی بدعنوانیوں سے پاک ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے تمام سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ نامزد وزیراعظم کے کابینہ کے لیے چناؤ پر اثر انداز ہوں اور نہ ان پر کوئی دباؤ ڈالیں تا کہ وہ سیاسی ، فرقہ وار اور لسانی بنیاد پر جماعتوں کے کوٹے سے آزاد ہو کر ایک پارلیمان تشکیل دے سکیں اور نئی حکومت میں عراقی معاشرے کے تنوع کو برقرار رکھیں۔

انھوں نے عادل عبدالمہدی کے زیر قیادت نئی حکومت کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پورا ایک سال دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس عرصے میں عراقی عوام کے سامنے کچھ کر کے دکھائیں ۔

سرکردہ شیعہ رہ نما نے وزیراعظم حیدر العبادی کی سبکدوش ہونے والی حکومت کے حوالے سے کہا کہ ’’ نئی حکومت عراق کی تعمیر ِ نو کے لیے ایک درست بنیاد پر پورے جوش و جذبے سے کام کرے گی جیسا کہ ان کے پیش رو نے اتھارٹی اور اپنی انفرادی حیثیت سے بالاتر ہو کر کام کیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں