یمنی ملیشیائیں جنگ زدہ 90 لاکھ شہریوں کو امداد سے محروم کرنے کا موجب بنیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوئے۔ دوسری جانب ایران نواز حوثی ملیشیا کی وجہ سے ایک کروڑ کے قریب شہری امداد سےمحروم رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق یمن میں خانہ جنگی کے بعد عالمی بنک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال 'یونیسیف' کے تعاون سے غریب اور نادار شہریوں میں 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالرکی امداد مہیاکی گئی۔

نقدی، اجناس، خوراک اور ادویات کی شکل میں فراہم کی جانے والی اس امداد کی تقسیم کے لیے 'یونیسیف' کو یمن کے شہروں میں امدادی مراکزکے قیام کی اشد ضرورت ہے مگر حوثی ملیشیا لوٹ مار کے چکروں میں عالمی ادارے کے ساتھ تعاون کے بجائے امداد ہڑپ کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ جن علاقوں میں حوثیوں کا انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول قائم ہے وہاں ’یونیسیف’ کو امدادی مراکز کے قیام میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی امدادی ادارے کا خیال تھا کہ عالمی بنک کی طرف سے دی جانے والی گرانٹ ایک تہائی یمنی آبادی کی غربت کے باعث یقینی موت سے نجات کا موجب بنے گی، مگر اگست 2017ء کےبعد یہ تیسرا موقع ہے کہ 'یونیسیف' کو اپنے امدادی مشن میں سخت مشکلات درپیش ہیں۔ حوثیوں کی طرف سے امداد کی تقسیم کے لیے نہ صرف مراکز کے قیام کی اجازت نہیں دی جا رہی بلکہ امدادی سامان کی لوٹ مار جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حوثی ملیشیا کی کارروائیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے 90 لاکھ افراد امداد سے محروم رہے ہیں۔

یہ رکاوٹیں ایک ایسے وقت میں کھڑی کی جا رہی ہیں جب جنگ کی وجہ سے یمن میں مہنگائی عروج پر ہے، ایندھن، خوراک اور دیگر بنیادی نوعیت کی اشیاء کےنرخ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ادویات ناپید اور قومی کرنسی گراوٹ کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں