بستیوں کی آباد کاری کی اسرائیلی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں: میرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان اختلافات کا سلسلہ ایران سے لے کر مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں الخان الاحمر تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم ان اختلافات نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر نہیں کیا ہے جن کو تل ابیب امریکا کے بعد بین الاقوامی سطح پر دوسرا اہم ترین درجہ دیتا ہے۔

میرکل نے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہ ہر سال ایک مرتبہ وہاں ضرور جاتی ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "ایرانی جوہری معاہدے نے تہران کو اربوں ڈالر فراہم کر دیے تا کہ وہ ان کو مشرق وسطی میں اپنی جنگ اور یورپ تک پھیلے ہوئے حملوں میں خرچ کر سکے ،،، دنیا کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا"۔

دوسری جانب میرکل کہتی ہیں کہ "ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی ضرورت پر متفق ہیں تاہم طریقہ کار کے حوالے سے ہمارے بیچ اختلافات ہیں۔ ایران کو شام سے نکلنا ہو گا اور میں نے اس بارے میں روسی صدر سے بات چیت کی ہے"۔

اسرائیلی وزیراعظم نے میرکل کو واضح کیا ہے کہ تہران پر پھر سے تمام پابندیاں عائد نہ کی گئیں تو تہران کو شام میں قدم جمانے اور یورپی ممالک کے خلاف کارروائیاں انجام دینے کی بھی قدرت حاصل ہو جائے گی۔

تاہم جرمن چانسلر کا اصرار رہا کہ ایران کے ساتھ بُرا معاہدہ بھی ،،، کسی معاہدے کے نہ ہونے سے بہتر ہے۔ میرکل نے ایران کی علاقائی عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے اسرائیلی انٹیلی جنس کی رپورٹ سے آگاہی حاصل کی۔

ایک اور اختلاف رائے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی گاؤں الخان الاحمر کو منہدم کرنے کے ارادے کے حوالے سے سامنے آیا۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک اس امر کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ مذکورہ گاؤں کو مٹا دینے کا مطلب جغرافیائی طور پر متصل ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔

میرکل اور نیتن یاہو کے درمیان روایتی نوعیت کے اسرائیلی یورپی اختلافات دونوں ملکوں کے بیچ دوستانے کو خراب نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ جرمنی اور اسرائیل کے تزویراتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات سیاسی تصادم پر غالب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں