جنوبی کوریا کے سابق صدر کو کرپشن کے الزام میں 15 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر لی میونگ باک کو بدعنوانی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سابق حکومتی عہدیداروں سزائیں سنائے جانے کا یہ نیا واقعہ ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے سیکیورٹی امور میں غفلت برتنے پر سابق حکام کو قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں۔

وسطی سیول میں قائم ایک عدالت نے سابق صدر لی کو رشوت لینے اور دھوکہ دہی سمیت کئی دوسرے الزامات میں قید کی سزا سنائی۔ انہیں قید کے ساتھ 13 ارب وون یعنی 1 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

سابق صدر کی عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی پر نشر کی گئی اور کہا گیا کہ ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ تاہم خرابی صحت کی بناء پر لی خود وہاں موجود نہیں تھے۔

جنوبی کوریا کے سابق صدر پر رواں سال 16 اپریل کو رشوت ، دھوکہ دہی اور عہدے کے ناجائز استعمال پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

جنوبی کوریا کی عدالت کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس تیار کرنے والی ایک کمپنی "داس" سابق صدر کی ملکیت ہے تاہم لی کا دعویٰ ہے کہ وہ کمپنی ان کے بھائی کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے دھوکہ دہی سے کمپنی کو 24 ارب وون کا فایدہ پہنچایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں