داعش کی ستم رسیدہ یزیدی لڑکی کونوبل انعام دے دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سال 2018ء کا امن کا نوبل انعام مشترکہ طور پر عراق کی ایک یزیدی خاتون نادیہ مراد کو ملا ہے جو شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے چنگل میں رہنے کے بعد اب جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے۔ پاکستانی ملالہ یوسف زئی کے بعد نادیہ مراد بھی ایک کم عمر لڑکی ہیں جنہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ سنہ 2014ء میں ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا

نادیہ کو دولتِ اسلامیہ [داعش] کے شدت پسندوں نے ریپ کیا تھا اور ان کے چنگل سے نکلنے کے بعد انھوں نے یزیدی برادری پر ہونے والے ظلم کے خلاف عالمگیر مہم کا آغاز کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ یہ انعام مشترکہ طور پر افریقی ملک کانگو کے گائناکالوجسٹ ڈینس مُکویگے کو دیا گیا ہے جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں متاثرین کا علاج کیا ہے۔

اس سال 331 افراد اور اداروں کو اس انعام کے لیے نامزد کیا تھا جن میں سے نادیہ مراد اور ڈینس مکویگے کا انتخاب ہوا ہے۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے سربراہ بیرٹ رائس اینڈرسن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انعام 'جنسی تشدد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف جدوجہد' کے صلے میں دیا گیا ہے۔

رائس اینڈرسن نے کہا کہ دونوں انعام یافتگان نے'ایسے جنگی جرائم پر توجہ مرکوز کروانے اور ان کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔'

اس موقعے پر ملالہ یوسفزئی نے بھی نادیہ مراد کو مبارک باد دی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ملالہ نے لکھا کہ ان کے کام نے زندگیاں بچائی ہیں اور عورتوں کو جنسی تشدد کے خلاف بولنے پر آمادہ کرنے میں مدد دی ہے۔

نادیہ مراد نومبر 2014 میں دولتِ اسلامیہ کی قید سے آزاد ہوئی تھیں اور اس کے بعد سے وہ انسانی سمنلنگ کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔

’میں نادیہ مراد سے اسی دن ملی تھی جب وہ موصل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ میں نے انھیں کہا کہ میں ان کا انٹرویو اس طرح سے لے سکتی ہوں کہ ان کا چہرہ نظر نہ آئے، لیکن انھوں نے کہا، 'دنیا کو دیکھنے دو کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔' اب انھیں امن کا نوبیل انعام مل گیا ہے۔‘

اس سے قبل فزکس کا انعام ڈونا سٹرکلینڈ کو ملا تھا۔ اس طرح وہ 55 سالوں میں فزکس کا نوبیل انعام لینے والی پہلی خاتون ملی تھی۔

نادیہ مراد کا تعلق عراق کی اقلیتی یزیدی برادری سے ہے۔ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجؤوں کی کنیز بن کر تین ماہ گزارے۔ اس دوران انھیں کئی بار خریدا اور بیچا گیا اور قید کے دوران جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نومبر 2014 میں ’داعش‘ کی قید سے نجات پانے کے بعد انھوں نے ایک مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد ریپ کے بطور جنگی ہتھیار استعمال پر توجہ مبذول کروانا تھا۔

انھوں نے 2016 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ’داعش‘ کی جانب سے یزیدی مذہب کی عورتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک سے پردہ اٹھایا۔

انھیں نوبیل امن انعام سے قبل 2016 میں کونسل فار یورپ کی جانب سے واکلیو ہیومن رائٹس انعام دیا گیا تھا۔ انھوں نے اس موقعے پر مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف ’داعش‘ کے جرائم کی تفتیش کرے۔

اس کے بعد اسی سال انھیں انسانی سمگلنگ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پہلی خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایک اور یزیدی خاتون لامیا اجی بشر کے ساتھ مشترکہ طور پر یورپ میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا سخاروف ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔

نادیہ مراد 1993 میں شمالی عراق میں کوہِ سنجار کے علاقے کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی تھیں۔ 2014 میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ان کے گاؤں پر چڑھ دوڑے۔ ان کی ماں اور چھ بھائیوں کو قتل کر دیا گیا، جب کہ گاؤں کی بہت سی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کنیزیں بنا کر جنگجوؤں میں تقسیم کر دیا گیا۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 'اس دن پانچ ہزار یزیدی مرد قتل کر دیے گئے اور ساڑھے چھ ہزار عورتوں اور بچوں کو اغوا کر لیا گیا۔ انھوں نے آٹھ ماہ تک ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں اور بھائیوں سے الگ رکھا، بعض کو قتل کر دیا گیا اور کچھ غائب ہو گئے۔'

بالآخر ایک مسلمان خاندان نے ان کے لیے جعلی شناختی دستاویزات تیار کیں اور اس طرح وہ ’داعش‘ کے علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں