معاشی بحران: ترکی کی 3 ہزار کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کو حالیہ عرصے کے دوران امریکا کے ساتھ مخاصمت کی بھاری مالی قیمت چکانا پڑی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کی بعض پالیسیاں معاشی بحران کا سبب بنی ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی ہزاروں کمپنیوں اور تجارتی اداروں کے دیوالیہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی کے مالیاتی سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کی 3 ہزار تجارتی اور کاروباری کمپنیوں نے مالیاتی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے بعض اقدامات کی وجہ سے وہ شدید نوعیت کے مالی بحران اور مشکلات کا شکار ہیں جس کے باعث کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی میں معاشی بحران کی تازہ لہر نے کمپنیوں‌کو بھی غربت سے دوچارکیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ، تعمیرات،لاجسٹک سروسز، صنعت اور کئی دوسرے شعبوں میں‌کام کرنے والی بڑی فرموں کو نقدی کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔ ان کے منافع میں 24 فی صد تک کمی آ گئی ہے۔ اس کمی کا بنیادی ترکی کی کرنسی لیرہ کا 40 فی صد تک گرنا بتایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں ’ایلومینیم ٹیکنیک' 'پوراک ایلومینیم' سر فہرست ہیں۔ ترکی میں درآمدات کے حوالے سے یہ سب سے بڑی کمپنیاں ہیں ان کاشمار ملک کی 100 بڑی فرموں میں ہوتا ہے۔
ترکی سے شائع ہونے والے اخبار 'سوزجو' نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تعمیراتی شعبے کی بڑی کمپنیوں میں 'بالیٹ' بوھگلو، گیلان، نافیا، اوزنسن ٹاھوٹ اور سیلان بدترین مالی بحران کا سامنا کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں