شامی باغیوں کے بھاری ہتھیاروں کو ادلب کے غیر فوجی علاقے سے پیچھے ہٹانے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے حمایت یافتہ دو شامی باغیوں نے بتایا ہے کہ حکومت مخالف جنگجو گروپوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں قائم کیے گئے غیر فوجی علاقے سے بھاری ہتھیاروں کو پیچھے ہٹانے کا آغاز کردیا ہے ۔ادلب میں اس فوجی علاقے کے قیام پر روس اور ترکی کے درمیان گذشتہ ماہ سمجھوتا طے پایا تھا۔

ایک باغی گروپ کے کمانڈر نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کے عمل کا آج ( ہفتے کی) صبح آغاز ہوا ہے اور یہ آیندہ کئی روز تک جاری رہے گا‘‘۔

اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ترکی کا حمایت یافتہ باغی گروپ قومی محاذِ آزادی ( این ایف ایل ) راکٹ لانچروں اور توپ خانے کی گاڑیوں سمیت بھاری ہتھیاروں کو ادلب میں مزاحمت کاروں اور سرکار ی سکیورٹی فورسز کے درمیان حد فاصل کی لکیر سے بیس کلومیٹر پیچھے لے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہلکے اور درمیانے ہتھیار اور 57 ایم ایم تک بھاری مشین گنیں ان گروپوں کے پاس ہی موجود رہیں گی‘‘۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور شامی صدر بشارالاسد کے پشتیبان روس کے صدر ولادی میر پوتین کے درمیان گذشتہ ماہ ادلب میں خونریزی رکوانے کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت باغی گروپ 15 اکتوبر تک غیر فوجی علاقے سے نکل جائیں گے۔

اس سمجھوتے کے بعد شامی حکومت اور روس نے ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف کارروائی روک دی تھی ۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تو اس سے ایک انسانی المیہ جنم لے گا۔ادلب میں بڑے جنگجو گروپ تحریرالشام نے ابھی تک اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں