.

ایران کو درپیش معاشی بحران کے پیش نظرروحانی حکومت کے سقوط کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ہادی بہادری نےصدر حسن روحانی کی حکومت کے اکثر وزراء سے پوچھ گچھ کے مطالبات کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدم اعتماد کی صورت میں حکومت کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کو درپیش معاشی اور مالیاتی بحران، کرنسی کی قدر میں انتہائی گراوٹ اور صنعتوں کا پہیّہ جام ہونے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

بہادری نے ہفتے کے روز خبر رساں ایجنسی "اِلنا" کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ صنعت، تیل،تجارت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور داخلہ امور کے وزراء سے پوچھ تاچھ کے لیے مطلوبہ تعداد میں ارکان سے دستخط لے لیے گئے ہیں۔ نیز دیگر وزراء کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے گا۔

بہادری کے مطابق صدر روحانی کو وزیر محنت اور وزیر معیشت کے متبادل نام پیش کرنا چاہئیں تا کہ حکومت میں خلا پیدا نہ ہو ، جو سخت گیر بنیاد پرستوں کو حکومت پر عدم اعتماد کے اظہار کا موقع دے سکتا ہے۔

اس طرح کی بھی خبریں گردش میں ہیں کہ روحانی نے پوچھ گچھ کے عمل کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ وہ کابینہ میں ردو بدل کر سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ دو روز میں اہم پیش رفت کا امکان ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں اصلاح پسند بلاک سے تعلق رکھنے والے بہادری کا کہنا ہے کہ وزیر محنت اور وزیر معیشت پر عدم اعتماد کے اظہار کے بعد دو ماہ گزر جانے کے باوجود دونوں عہدے خالی ہیں۔

بہادری نے واضح کیا کہ پانچ وزراء کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں قانون یہ کہتا ہے کہ حکومت کی تشکیل نو کی جائے اور اسے ایک بار پھر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے بعد معاشی بحران کے بڑھ جانے سے روحانی کی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں عہدے داران کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ورکروں کی قوّت خرید میں 90% تک کمی آئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غذائی اشیاء اور خور و نوش کی چیزوں کی قیمتوں میں 50% اور 100% اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورت حال نے حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ عوام میں ماہانہ 7 ڈالر قیمت کے ایک کروڑ راشن کارڈ تقسیم کرے۔ دوسری جانب اس اقدام کو معاشی بحران حل کرنے کے لیے نا کافی قرار دے کر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی 28 اگست کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ انھوں نے مہنگائی، بے روزگاری، غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں اضافے، مقامی کرنسی کی قدر میں کمی، کساد بازاری اور اسمگلنگ کے بحرانات کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب دیے۔

بعد ازاں ارکان پارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ روحانی کی جانب سے دیے گئے جوابات سے مطمئن اور قائل نہیں ہو سکے کیونکہ ایرانی صدر نے تمام تر اندرونی بحرانوں کو "بیرونی سازش" اور تہران پر امریکی پابندیوں اور دباؤ کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔