.

ایران : دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد سے متعلق معاہدے CFT میں شمولیت منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ نے اتوار کے روز دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے عالمی معاہدے "CFT" میں ایران کی شمولیت کی مظوری دے دی ہے۔ پارلیمنٹ میں سخت گیر بنیاد پرستوں نے اس اقدام پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ یہ منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے تحت عمل میں آئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کے درمیان گرما گرم بحث کے بعد"CFT" میں ایران کی شمولیت سے متعلق بِل کی منظوری دی۔ رائے شماری میں بِل کی موافقت میں 143 جب کہ مخالفت میں 120 ووٹ آئے۔ ان کے علاوہ 5 دیگر ارکان نے رائے شماری میں حصّہ نہیں لیا۔ ایجنسی کے مطابق خفیہ طور پر منعقد اس اجلاس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے حکومتی نمائندے کے طور پر شرکت کی اور معاہدے میں ایران کی شمولیت کی ضرورت کا دفاع کیا۔

خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اجلاس کے انعقاد کے موقع پر معاہدے کے مخالف عناصر پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہو گئے جن کی تعداد 100 افراد کے قریب تھی۔ ان لوگوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں معاہدے میں شمولیت کے بل کی عدم منظوری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں شمولیت سے ایران کا موقف مضبوط ہو گا اور ایران مزید پابندیوں سے بچ سکے گا۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمان میں "ولایت فقیہ" بلاک کے نائب سربراہ محمد دہقان کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب کہ ملک کو جنگ کے سے حالات کا سامنا ہے ،،، وزیر خارجہ ظریف اور ان کی ٹیم اس معاہدے میں شمولیت کی منظوری کے ذریعے امریکا کے سامنے اپنا اچھا برتاؤ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔ اِسنا خبر رساں ایجنسی کے مطابق دہقان نے ایرانی حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر دستخط سے لبنانی "حزب الله" اور خطّے میں ایران کے ساتھ مربوط دیگر جماعتوں کے لیے تہران کی سپورٹ پر روک لگ جائے گی۔

سخت گیر حلقوں کے مطابق CFT پر دستخط کرنے سے ایران کا اُن شدت پسند جماعتوں کے ساتھ تعلق خطرے میں پڑ جائے گا جن کو تہران کی جانب سے مالی، لوجسٹک اور عسکری سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ان جماعتوں کی سپورٹ کی پاداش میں ایران کی سرزنش بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ ان میں سے اکثر کو عنقریب دہشت گرد جماعتوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

ایران میں مجلس تشخيص مصلحت نظام نے گزشتہ ماہ ایک اور اہم معاہدے " فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ" FATF میں ایران کی شمولیت کی منظوری کو مسترد کر دیا تھا۔

مجلس کے سربراہ محمود ہاشمی شاہرودی نے ایرانی شوری نگہبان کے سکریٹری احمد جنتی کو بھیجے گئے خط میں مذکورہ معاہدے میں شمولیت کو مسترد کرنے کی وجہ بیان کی تھی۔ شاہرودی کے مطابق معاہدے کی 4 شقیں ایرانی آئین اور اسلامی شریعت کے منافی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے ساتھ ہی ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے ایجنٹوں کے لیے دنیا بھر میں ایران کی دہشت گرد سرگرمیوں کی فنڈنگ کے واسطے ہاتھ آنے والی رقوم کا ایک بڑا باب بند ہو گیا۔

جمعرات کے روز وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے "انسداد دہشت گردی کے لیے امریکی حکمت عملی" کے اعلان میں باور کرایا کہ وہ بیرون ملک امریکا اور اس کے مفادات کو دہشت گردی کے خطرے سے بچانے پر کاربند ہیں۔ ان خطرات میں ایرانی دہشت گردی اور داعش تنظیم سرِفہرست ہیں۔