اِدلب: شامی اپوزیشن گروپ آج بھاری ہتھیاروں کا انخلا مکمل کر لیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں اپوزیشن کے مسلح گروپ اِدلب صوبے سے اپنے بھاری ہتھیاروں کا انخلا پیر کے روز مکمل کر لیں گے۔ اس بات کا اعلان ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول کی جانب سے کیا گیا۔ ماسکو اور انقرہ نے صوبے میں "ہتھیاروں سے خالی" علاقے کے قیام کے لیے بدھ کے روز تک کی مہلت مقرر کی ہے۔

نیشنل فرنٹ فار لبریشن نے جس میں ترکی کے مقرّب متعدد گروپ شامل ہیں، ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ روس اور ترکی کے درمیان جن علاقوں پر اتفاق رائے ہوا ہے تنظیم نے وہاں سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔

روس اور ترکی تقریبا تین ہفتوں پہلے ایک معاہدے تک پہنچ گئے تھے جس کے سبب ادلب صوبے کو شامی حکومت کے ایک بڑی حملے سے بچا لیا گیا۔ معاہدے کے تحت ادلب میں شامی حکومت کی فورسز اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان 15 سے 20 کلو میٹر پر محیط ایک غیر فوجی علاقہ قائم کیا جائے گا۔ اپوزیشن گروپوں کو دس اکتوبر تک مجوزہ علاقے سے اپنے تمام بھاری ہتھیاروں کو نکال لینا ہو گا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ اپوزیشن گروپوں نے ایک ہفتے سے ادلب کے جنوبی اور مشرقی حصّے سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں شامی حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول فوجی ہوائی اڈَے ابو الضہور کے قریب واقع علاقہ ، معرہ نعمان کا دیہی علاقہ اور حلب کا مغربی اور حماہ کا شمالی دیہی علاقہ شمال ہے جو شامی اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول ہیں۔

ادلب معاہدے کا سرپرست ترکی کئی ہفتوں سے فوجی نفری اور عسکری گاڑیاں اِدلب میں اپنے زیر نگرانی قائم چیک پوائںٹس پر بھیج رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں