ایران اقتصادی طور پر چاروں شانے چِت ہو سکتا ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں معاشیات کے 50 ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی نظام کی قیادت کو متنبہ کیا جائے کہ صورت حال ان کے تصور سے زیادہ خراب اور خطر ناک ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِلنا" کے مطابق مذکورہ ماہرین معاشیات نے ایک کھلے خط میں باور کرایا ہے کہ مقامی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ نے جو تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں ان کی نظیر گزشتہ 75 برسوں میں نہیں ملتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "غلط اقتصادی پالیسیوں" کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک میں افراطِ زر کی اعلی ترین شرح کی صورت میں سامنے آئے گا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ "خطرے کی گھنٹی بجائی جا رہی ہے.. حالات تصور سے زیادہ خطرناک اور دشوار ہیں کیوں کہ چوتھی بار کرنسی کے قدر میں شدید کمی کے اثرات نے ہر چیز کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے"۔

ماہرین کے مطابق کرنسی کے نرخوں میں گراوٹ کے مسئلے کے ساتھ غلط طریقے سے نمٹا گیا اور یہ افراطِ زر میں 60% سے زیادہ اضافے کا سبب بنا۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر ایرانی ریال کے مقابل امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔ ایک ڈالر 1.2 اور 1.3 لاکھ ایرانی ریال سے بڑھ کر 2 لاکھ ریال تک پہنچ گیا۔ (ایک ریال 10 تومان کے برابر ہوتا ہے)۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر پر روک لگانے کے لیے اقدامات کیے گئے تاہم اس کے باوجود قابل ذکر بہتری نہ آ سکی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی ایک ڈالر 1.4 سے 1.5 لاکھ ایرانی ریال کے مساوی چل رہا ہے۔

ماہرین معاشیات کی جانب افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے کے حوالے سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ میں بنیاد پرست ارکان وزراء کی اکثریت سے پوچھ گچھ اور ان پر عدم اعتماد ظاہر کر کے صدر حسن روحانی کی حکومت کو گھر بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں