.

خدیجہ نامی عورت کون ہے، اسے نہیں جانتے: خاشقجی کے بیٹے کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پراسرار پر لاپتا ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بڑے صاحب زادے صلاح جمال نے اپنے والد سے منسلک "خدیجہ" نامی ترک عورت کے بارے میں مکمل طور پر لاعلمی کااظہار کیا ہے۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق خدیجہ جمال خاشقجی کی نئی منگیتر ہیں اور گذشتہ منگل کو جب خاشقجی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد غائب ہوگئے تو وہ بھی ان کے ہمراہ سفارت خانے تک گئی تھیں مگر وہ خاشقجی کے واپس آنے کا رات تک انتظار کرتی رہیں۔

صلاح جمال جو کہ سعودی عرب میں مقیم ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی گم شدگی کے معاملے کو غیرملکی حلقے سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ ہم اس وقت صدمے میں ہیں اور ہم اپنے والد کی گم شدگی کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے خاشقجی کا کہنا تھاکہ ان کے والد معزز سعودی شہری ہیں۔ ہم ان کی تلاش کے حوالے سے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ حکام نے بھی ان کے خاندان کے ساتھ ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

صلاح جمال کاکہنا تھا کہ ان کے والد کی گم شدگی ایک ذاتی اور نجی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کا سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کے خاندان کو جمال خاشقجی کے بارے میں درست معلومات کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صلاح جمال نے کہاکہ ان کا اپنے والد کے ساتھ آخری بار رابطہ اس وقت ہوا تھا جب وہ امریکی شہر واشنگٹن میں تھے۔ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ترکی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ترک خاتون خدیجہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے صلاح نے کہا کہ ہم نے اس خاتون کا نام ذرائع ابلاغ سے سنا ہے۔ اس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں۔اس کے ساتھ ہمارے والد کا تعلق کب سے ہے ہم کچھ نہیں جانتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ جمال خاشقجی کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انہیں جلد از جلد منظرعام پر آنا چاہیے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے سینیر صحافی جمال خاشقجی گذشتہ منگل کو استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ لا پتا ہیں۔ اس حوالے سے سعودی کا سرکاری موقف سامنے نہیں آیا تاہم استنبول میں قونصل خانے کا کہنا ہے کہ خاشقجی سفارت خانے سے جلد ہی واپس چلے گئے تھے۔

ان کے ہمراہ ان کی ترک منگیتر خدیجہ بھی قونصل خانے تک گئیں۔ خاشقجی نے خدیجہ سے کہا تھا کہ اگر وہ واپس نہ آئیں‌تو ترک حکام کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔ وہ پورا دن اور آدھی رات تک خاشقجی کا انتظار کرتی رہیں، اس کے بعد انہوں نے حکام سے رابطہ کیا۔