.

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ کے خلاف فراڈ اور کرپشن کے الزامات پر قائم مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ کے خلاف فراڈ،قومی خزانے سے رقوم کو ذاتی مفاد میں اڑانے اور لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات میں درج مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

سارہ نیتن یاہو پر وزیراعظم کی سرکاری اقامت گاہ میں اسراف سے کام لیتے ہوئے خصوصی باورچیوں سے کھانے تیار کروانے پر کم سے کم ایک لاکھ ڈالرز کی رقم زائد صرف کرنے پر فرد الزام عاید کی گئی ہے حالانکہ اس وقت سرکاری عملہ میں ایک باورچی موجود تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ اتوار کو پہلی مرتبہ مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم) میں ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔اس موقع پر عدالتی کمرا رپورٹروں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن سارہ نے ان سے کوئی گفتگو نہیں کی اور اس پریشانی کے عالم میں ایک مسکراہٹ پر ہی اکتفا کیا۔

سارہ نیتن یاہو سے پولیس نے سرکاری رقوم ذاتی مصارف پر خرچ کرنے، سرکاری خزانے سے لی گئی رقوم کو ذاتی مکان کی تعمیر ومرمت اور تزئین وآرایش پر اڑانے کے الزام میں پوچھ تاچھ کی تھی ۔ان پر ایک الزام یہ ہے کہ انھوں نے قومی خزانے سے رقوم کو قیصریہ میں واقع اپنے ذاتی ولا میں باغ کے فرنیچر کی خریداری اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے پر صرف کیا تھا۔

پولیس کی اس تفتیش کی تفصیل گاہے ماہے میڈیا کو افشا کی جاتی رہی ہے اور اس میں سارہ نیتن یاہو کی ایک غیر خوشامدانہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ انھوں نے تفتیش کے دوران میں وزیراعظم کی سرکاری اقامت گاہ پر پیش کیے جانے والے کھانوں کے معیار کے بارے میں شکایت کی تھی اور عملہ کے بارے میں تندو ترش رویہ اختیار کیا تھا۔

سارہ کے خلاف ایک عرصے سے فضول خرچی اور سرکاری عملہ سے دشنام طرازی کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔2016ء میں ایک عدالت نے ان کے خلاف ایک سرکاری خدمت گار سے دشنام طرازی کے الزام میں حکم جاری کیا تھا اور انھیں اس شخص کو 42 ہزار ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس کے دوسرے سرکاری ملازمین نے بھی ان کے بارے میں ناروا سلوک اور سرکاری خزانے کو لذتِ کام ودہن میں اڑانے کے الزامات عاید کیے تھے۔انھوں نے مبینّہ طور پر عنابی شراب پینے اور دوسری تعیّشات کے لیے سرکاری رقوم کا استعمال کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی اہلیہ کے خلاف فرد جرم کی مذمت کی ہے اور ان کے خلاف الزامات کو بے بنیاد اور دھوکا دہی پر مبنی قرار دیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مخالف میڈیا کی جانب سے تنقید کا ہدف بنایا جارہا ہے۔ان کے وکلاء نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی موکلہ نے قواعد وضوابط کی پاسداری کی تھی اور جن پُرتعیش کھانوں کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جارہا ہے،ان کو لانے کا حکم ایک معاون نے دیا تھا اور وہ آنے والے معزز مہمانوں کو پیش کیے گئے تھے۔

سارہ نیتن یاہو کو اگر اس مقدمے میں قصور وار قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر انھیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے کہ کوئی اسرائیلی عدالت انھیں یہ سزا سنائے گی۔

فراڈ اور بدعنوانیوں کے الزامات

پولیس نے گذشتہ جمعہ کو وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی فراڈ ،رشوت خوری اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں تفتیش کی تھی۔ایک کیس میں ان پر ایک ارب پتی جوڑے سے بیش قیمت تحائف وصول کرنے پر فردِ الزام عاید کی گئی تھی۔ ان پر ایسے قواعد وضوابط کو منظور کرنے کا بھی الزام ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کی ٹیلی مواصلات کی بڑی فرم بی ذیق کو کروڑوں ڈالرز کا فائدہ پہنچا تھا ۔

یاد رہے کہ سارہ کے خلاف سب سے سنگین الزامات وزیراعظم ہاؤس کے سابق خانساماں مینی نفتالی نے عاید کیے تھے۔اس خانساماں کو اسرائیلی وزیراعظم نے برطرف کردیا تھا۔اس نے نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع وزیراعظم کے دفتر کے لیے خرید کیے گئے فرنیچر کو قیصریہ میں واقع اپنے مکان میں ذاتی استعمال کے لیے بھیج دیا تھا۔

انھوں نے مبیّنہ طور پر اپنے ایک خاندانی الیکٹریشن دوست اور لیکوڈ پارٹی کے سابق رکن آوی فہیمہ کو ٹیکس دہندگان کے خرچے پر بجلی کی مرمت کا نجی کام بھی دیا تھا اور اس کام کے جعلی بل تیار کیے گئے تھے۔

سارہ نیتن یاہو پر ایک الزام یہ عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے 2009ء سے 2013ء کے درمیان سرکاری رہائش گاہ کی خالی بوتلوں کے عوض ملنے والے ایک ہزار ڈالرز اپنی جیب میں ڈال لیے تھے حالانکہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جانی چاہیے تھی۔2013ء میں نیتن یاہو نے ایک ہزار ڈالرز قومی خزانے میں جمع کرا دیے تھے لیکن نفتالی کا کہنا تھا کہ یہ رقم چھے گنا زیادہ ہونی چاہیے تھی ۔