.

امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ایئرلائن کے 50 فی صد طیارے فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی فضائی سروس بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی فضائیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کی اقتصادی پابندیوں کےنتیجے میں ایرانی فضائی بیڑے کے 50 فی صد طیارے سروس سے باہر کردیےگئے ہیں۔

ایران کے صوبہ فارس کے ڈائریکٹر جنرل رضا بدیعی فرد نے ایک بیان میں‌بتایا کہ امریکا کی پابندیوں کے نتیجےمیں ایرانی فضائی بیڑے میں شامل 50 فی صد جہازوں کو فضائی سروسز سے نکال دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کی جانب سے نقل کردہ بیان میں مسٹر بدیعی فرد کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے عاید کی گئی پابندیوں کے نتیجے میں طیاروں کی ضروری مرمت میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرمت نہ ہونے کے نتیجے میں ہوائی جہازوں میں فنی خرابی کےواقعات اور اس کے باعث جہازوں کی ہنگامی لینڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہاہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق سنہ 1990ء کےبعد ایران میں200 فضائی حادثات پیش آئے جس کے نتیجے میں 2 ہزار سے زاید افراد لقمہ اجل بن گئے۔

ایران کے فضائی بیڑے میں مجموعی طورپر 256 سول طیارے شامل ہیں۔ ان میں 150 طیاروں کی سروس 20 سال تک ہوچکی ہے۔ امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے باعث ایران کے لیے دوسرے ملکوں سے جدید طیاروں کا حصول بھی مشکل ہوچکا ہے اور ایران میں پرانے ہوائی جہاز اب ناکارہ ہونے لگے ہیں۔