.

خاشقجی کے اغوا اور قتل سے متعلق رپورٹیں من گھڑت ہیں : خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے صحافی جمال خاشقجی کے معاملے میں کئی انکشافات سامنے آئیں گے۔

منگل کے روز اپنے ایک بیان میں خالد بن سلمان نے واضح کیا کہ اگرچہ تحقیقات ابھی اختتام کو نہیں پہنچی ہیں تاہم اس کے باوجود گزشتہ چند روز میں بے ہودہ نوعیت کی افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔

سعودی سفیر نے کہا کہ "سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اِن پروپیگنڈوں پر بات نہ کی جائے۔ بالخصوص جب کہ معاملہ مملکت کے ایک لا پتا شہری سے متعلق ہو جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصّہ اپنے وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہو"۔

شہزادہ خالد کا کہنا تھا کہ "بے شک مملکت میں جمال خاشقجی کا خاندان انتہائی تشویش کا شکار ہے اور اسی طرح ہمیں بھی تشویش لاحق ہے۔ جمال کے سعودی عرب میں بہت سے دوست ہیں اور میں ان میں سے ایک ہوں۔ کئی معاملات میں اختلافات کے باوجود ہم نے اپنے رابطوں کو برقرار رکھا"۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے زور دے کر کہا کہ "خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں چھپائے جانے یا مملکت کی جانب سے اغوا یا قتل کیے جانے کے حوالے سے تمام تر افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ ترکی سے حاصل ابتدائی معلومات کے مطابق وہ قونصل خانے سے نکلنے کے بعد لا پتہ ہوئے۔ تاہم جب مملکت کی جانب سے تحقیقات کا آغاز ہو گیا تو پھر الزامات بھی بدل گئے اور یہ بات پھیلائی گئی کہ وہ قونصل خانے کے اندر لا پتا ہوئے۔ بعد ازاں جب ترک حکام اور میڈیا کو قونصل خانے کی عمارت کے مکمل معائنے کی اجازت دے دی گئی تو ایک بار پھر الزامات میں تبدیلی آئی اور یہ شرم ناک پروپیگنڈا کیا گیا کہ خاشقجی کو کام کے اوقات میں قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا جب کہ درجنوں ملازمین اور غیر ملکی افراد بھی موجود ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں اس نوعیت کے پروپیگنڈے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے!"۔

خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے سفارت خانے کے لیے اس وقت اہم ترین امر خاشقجی کی سلامتی اور اس بات کا ظاہر ہونا ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی گزشتہ چند ماہ کے دوران باقاعدگی کے ساتھ استنبول میں سعودی قونصل خانے آتے رہے ہیں۔

واشنگٹن میں سعودی سفیر نے زور دیا کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے پر لازم ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے تا کہ یہ انکشاف سامنے آ سکے کہ خاشقجی کے روانہ ہونے کے بعد کیا واقعہ پیش آیا۔ شہزادہ خالد کے مطابق مملکت نے ترکی کی حکومت کی موافقت سے اپنی ایک سکیورٹی ٹیم بھی استنبول بھیجی ہے تا کہ وہ اپنے ترک ہم منصبوں کے ساتھ کام کرے۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا کہ مملکت کی جانب سے جمال خاشقجی کی تلاش کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔