.

"معذوری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی"

معذوری کی وجہ سے ٹھکرائی گئی مصری دو شیزہ نے بالاآخر منزل پا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی ایک 20 سالہ لڑکی جسےمعذورہونے کی باعث بعض تعلیمی اداروں نے اس لیے داخلہ نہ دیا کہ وہ دوسروں کے سہارے اور وہیل چیئر پر ہی نقل و حرکت کرسکتی ہے، تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور معذوری کو شکست دے کر اپنی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق یہ فکرانگیز واقعہ 20 سالہ مارینا ایمن وھیب کا ہے جو پٹھوں اور ہڈیوں کی ایک انوکھی بیماری میں مبتلا ہے۔ جنوبی مصر کے ضلع الاقصر کی رہنے والی مارینا کو اس کے شہر میں ایک یونیورسٹی نے محض اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کردیا کہ وہ معذرہے اور نقل وحرکت کے لیے وہیل چیئر اور دوسرے افرادکے سہارے کی مرہون منت ہے۔

یونیورسٹی کی طرف سے داخلے سے انکارکے باوجود مارینا وھیب نے جدو جہد جاری رکھی۔ اس نے دوسرے ادارے میں داخلہ لیا اور اعلیٰ نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو کر طب کی تعلیم کا اسکالرشپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اب اسے سرکاری سطح پر فارمیسی کی تعلیم کے حصول کے لیے کسی اچھے تعلیمی ادارے میں داخلہ دلوایا جائے گا جہاں وہ اپنی بیماری کے اسباب، کیفیات اور اس سے نمٹنے کے طریقوں پر تحقیق کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مارینا وھیب نے کہا کہ اسے ہڈیوں اور پٹھوں کی ایک انوکھی بیماری لاحق ہے جس نے اسے جسمانی طورپر معذور بنا رکھا ہے۔ وہ وہیل چیئر پر دوسروں کے سہارے ہی حرکت کرسکتی ہے مگر اس کا ذہن تندرست و توانا ہے۔ اس نے اپنے دماغ کا صحیح استعمال کرکے بہترین تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

میرینا نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں سائنس کے مضامین میں مجموعی طورپر 91 فی صد نمبرات حاصل کیے۔اب وہ مصر کی کسی بھی سرکاری درس گاہ میں فارمیسی کے شعبے میں اسکالر شپ پر داخلہ لینے کہ اہل ہیں۔

اس نے بتایاکہ میں نے اسکندریہ شہر میں ایک یونیورسٹی میں داخلے کے لیے درخواست دی تو یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا گیا کہ یونیورسٹی میں معذوروں کو سنھبالنے کا کوئی انتظام نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں معذور اور باصلاحیت لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیماری کے بارے میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ اسے پتا کہ وہ کس مرض میں مبتلا ہے اور اس سے نجات پانے کا کیا طریقہ ہے۔ نیز دوسرے لوگوں کو اس بیماری سے کیسے بچایا جاسکتاہے۔