اِدلب سے بھاری ہتھیاروں کا اںخلا شامی اپوزیشن کے لیے از سر نو ترتیب کا موقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے شہر سُوچی میں ماسکو اور انقرہ کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے تحت شام کے صوبے اِدلب میں غیر فوجی علاقے سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے لیے شامی اپوزیشن گروپوں کو دی گئی مہلت آج 10 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

اس حوالے سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے رکن یاسر الفرحان کا کہنا ہے کہ اِدلب میں غیر فوجی علاقوں سے بھاری ہتھیاروں کا انخلا ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے شام عوام کو کئی فوائد حاصل ہوں گے۔

اس طرح بشار الاسد کی حکومت کے سپورٹرز کے پاس علاقے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کوئی حجت باقی نہیں رہے گی۔ علاوہ ازیں اپوزیشن کے علاقوں میں گھس آنے والے گروپوں کو ایسی حماقتوں کے ارتکاب سے بھی روکنے کا موقع مل جائے گا جس کی قیمت وہاں کی مقامی آبادی کو چکانا پڑتی ہے۔

الفرحان نے واضح کیا کہ ترکی اور روس کے درمیان مفاہمت ترکی کے ساتھ سرحدی پٹی پر کنٹرول کے حوالے سے کرد پروٹیکشن یونٹس کے منصوبوں کو بھی ناکام بنا دے گی۔

الفرحان نے باور کرایا کہ یہ سمجھوتا اُس جمود کو بھی توڑ دے گا جو بشار حکومت نے جنیوا مذاکرات پر مسلط کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں یہ معاہدہ شامی اپوزیشن کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ اپنی صفوں کو از سر نو ترتیب دے اور اپنے مواقف میں وحدت پیدا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں