فلسطینی دھڑوں میں مصالحت ’’قطری ایندھن‘‘ نے بھسم کر ڈالی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی نے قطر کی طرف سے غزہ کی پٹی کے علاقے کو حکومت کی اجازت کے بغیر ایندھن اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ قطر کو حکومت کی اجازت کے بغیر غزہ کی پٹی کو ایندھن سپلائی نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ قطر کی طرف سے تیل سے بھرے کئی ٹرک غرب اردن سے غزہ روانہ کیے گئے۔ یہ ایندھن غزہ کی پٹی میں بند پاور اسٹیشن کو دوبارہ چالو کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا، تاہم فلسطینی اتھارٹی کو یہ شکایت ہے کہ قطر کو قومی وفاق حکومت کو نظرانداز کرکے غزہ میں حماس کو ایندھن فراہم کرنا فلسطینی مصالحتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

فلسطینی اتھارٹی بھی غزہ کی پٹی میں جاری معاشی بحران کو ایک انسانی مسئلے کے طورپر دیکھتی ہے مگر اس کے حل کے لیے قطر سمیت دوسری قوتوں کو کسی خاص گروپ کو نوازنے کے بجائے فلسطینی حکومت کے ذریعے امداد فراہم کرنی چاہیے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہےکہ قطری حکومت اقوام متحدہ، اسرائیل اور حماس کے ساتھ رابطے کے ذریعے غزہ کو ایندھن کی سپلائی کر رہا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے مشیر محمود الھباش نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں فلسطینیوں کا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو پہلے تو قضیہ فلسطین کی حمایت کرے، فلسطینی دھڑوں میں پائے جانےوالے اختلافات دور کرنے میں مدد دے اور فلسطینیوں کے درمیان مصالحتی مساعی کو کامیاب بنائے۔ موجودہ حالات میں اگر کوئی فریق غزہ میں حماس کی حکومت کو ایندھن فراہم کرے گا وہ بالیقین فلسطینیوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

بہ ظاہر فلسطینی اتھارٹی قطر کے خلاف کوئی سخت بیان دینے سے گریزاں ہے مگر ذرائع بتاتے ہیں کہ بند کمرہ اجلاسوں کے دوران فلسطینی حکام غزہ کو ایندھن فراہم کرنے پر قطر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور قطر کی طرف سے غزہ کی مدد جاری رکھنے کو قومی مصالحتی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ قطر قبرص میں ایک بندرگاہ کے قیام اور اسرائیل میں غزہ کے لوگوں کے لیے ہوائی اڈے کے قیام میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ اس بندرگاہ اور ہوائی اڈے کا فایدہ صرف غزہ کو ہوگا اور فلسطین کے دوسرے علاقوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔

اس کے مقابلے میں حماس اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ بندی کا اعلان کرے گی۔ یوں غزہ کی پٹی فلسطین کے دوسرے علاقوں سے الگ تھلگ ہوجائے گی۔ فلسطینی اتھارٹی اسے قومی اصولوں کی قیمت پر دشمن کے ساتھ ساز باز اور ڈیل کے مترادف قرار دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں