.

ایرانی اور قطری اسپیکروں کی ایک دوسرے کی مدح وتحسین!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایشیائی پارلیمانی کانفرنس کے موقع پر قطری پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ان کے ایرانی ہم منصب نے تفصیلی ملاقات کی۔ دونوں رہ نمائوں نے گرم جوشی کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کیا اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کی خوب تحسین اور مدح سرائی کی گئی۔

ٌخیال رہے کہ قطر اور ایران دونوں عالمی دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے الزام کا سامنا کررہےہیں۔ بہت سے عالمی ایشوز پر تہران اور دوحہ کےموقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ عرب ممالک کا حصہ ہونے کے باوجود قطر کی ایران کے ساتھ قربت پر دوسرے عرب ممالک ناراض ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "خانہ ملت" کے مطابق تہران میں منعقدہ تیسری ایشیائی پارلیمانی کانفرنس میں قطرکی مجلس شوریٰ کے چیئرمین احمد بن عبداللہ ال محمود اور ان کے ایرانی ہم منصب علی لاری جانی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر علی لاری جانی نے قطری اسپیکر پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ بہت ذہین اور دانا انسان ہیں۔ پورا خطہ آپ کی دانش مندی کا معترف ہے۔ ایران میں آپ کو بے پناہ عزت واحترام کےساتھ دیکھا جاتا ہے"۔

ایرانی اسپیکر نے خطے میں قطر کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ دوحہ نے خطے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

دہشت گردی کی معاونت پر چار عرب ممالک کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ "انہوں نے آپ کے ملک کے خلاف کئی انتقامی اقدامات کیے مگر ان اقدامات کا قطر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ اس لیے کہ آپ نے اسے حکمت کے ساتھ نمٹایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اقوام بیدار ہیں۔ ہرایک آزاد زندگی گذرانا چاہتا ہے۔ دنیا میں اجارہ داری کو کوئی قبول نہیں کرتا"۔

گذشتہ برس جون میں 12ممالک جن میں سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین سر فہرست نے قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عاید کرتے ہوئے اس کا سیاسی، سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کردیا تھا۔