.

خاشقجی کے معاملے پر خلیجی قیادت کا سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی

ریاض کو منظم انداز میں‌ بدنام کرنے کی مہم جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی سفارت خانے میں پراسرار طور پر صحافی جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے بعد خلیجی ممالک کی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطاق خلیجی قیادت نے جمال خاشقجی کے حوالے سے مثبت اور سعودی عرب کی حمایت میں موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ جس انداز میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ الریاض کو بدنام کرنے کی منظم سازش ہے۔ عالمی سطح پر سعودی عرب کو بدنام کرنے کی منظم جاری ہے۔

عرب قیادت نے سعودی عرب کو جمال خاشقجی کے معاملے میں گھسیٹنے کی مذموم مہم کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا ہے کہا ہے کہ ریاض کے خلاف جاری مکروہ مہم کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

خلیجی قیادت کی طرف سے الگ الگ جاری ہونے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو قتل کرنے کا الزام سعودی عرب کے مخالف حلقوں کی مذموم مہم کا حصہ ہے جو جعلی اور من گھڑت افواہیں پھیلا کر سعودیہ کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

بحرین کے وزیر خارجہ الشیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کا جمال خاشقجی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ سعودیہ کو ایک منظم مہم کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو بدنام کرنے کے پیچھے قطر کی پالیسی اور اس کے حامیوں کا ہاتھ ہے مگر اس مہم کے ذریعے سعوی عرب کو قطر کے ساتھ مصالحت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید نے ایک بیان میں کہا کہ خاشقجی کے معاملے کے بعد سعودی عرب کے خلاف جاری مذموم مہم میں امارات ریاض کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا شرف کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔