.

دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف داعش تنظیم کے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صوبے دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کئی روز سے داعش تنظیم کی بچی کھچی ٹولیوں کی جانب سے خود پر کیے جانے والے حملوں کو پسپا کرنے میں مصروف ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ان حملوں کے دوران ایک کارروائی میں بے گھر افراد کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔

المرصد نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سے جاری لڑائی میں ایس ڈی ایف کے 37 ارکان ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب داعش تنظیم کے 58 شدت پسند مارے گئے جن میں اکثریت نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں میں اپنی جان گنوائی۔

ایس ڈی ایف جو کرد اور عرب گروپوں پر مشتمل اتحاد ہے ،،، اس نے ایک ماہ سے بین الاقوامی اتحاد کی معاونت کے ساتھ شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں مورچہ بند داعش تنظیم کی باقیات کے خلاف عکسری کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ تاہم المرصد کے مطابق داعش نے بدھ کے روز سے ایس ڈی ایف کے خلاف حملوں کا آغاز کر دیا ہے اور علاقے میں ریت کے طوفان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیموکریٹک فورسز کی پیش قدمی میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجسنی کو بتایا کہ داعش تنظیم نے ہجین کے علاقے میں اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب کہ ایس ڈی ایف بین الاقوامی اتحاد کی مدد سے ان کو پسپا کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔

ہجین کو اس علاقے میں واقع ایک اہم ترین قصبہ شمار کیا جاتا ہے۔ ایس ڈی ایف کی جانب سے اطراف کے علاقے واپس لے لیے جانے کے باوجود ہجین ابھی تک شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش کے ارکان نے جمعے کے روز علاقے میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر حملہ کیا اور 100 سے زیادہ خاندانوں کو زبردستی ہجین قصبے لے گئے۔ رامی عبدالرحمن کے مطابق ان افراد میں تنظیم کے مارے جانے والے یا تنظیم سے منحرف ہونے والے ارکان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔

ایس ڈی ایف کے میڈیا سینٹر کے بیان کے مطابق پناہ گزینوں کے کیمپ میں کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں۔ اس کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کا جانی نقصان بھی ہوا۔ ڈیموکریٹک فورسز کے مطابق داعش نے موسم کی صورت حال اور گرد آلود آندھی سے فائدہ اٹھایا۔

دوسری جانب داعش نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں بتایا ہے کہ اُس نے ہجین کے علاقے میں ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیے۔ ان ٹھکانوں میں پناہ گزین افراد کا کیمپ بھی شامل ہے۔

داعش نے بدھ کے روز اپنے پہلے حملے کے دوران ایس ڈی ایف کے 35 ارکان کو قیدی بنا لیا تھا۔

ایک ماہ قبل فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے فریقین کے بیچ شدید معرکہ آرائی جاری ہے۔ اب تک ایس ڈی ایف کے 176 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ داعش کے 325 ارکان مارے گئے۔