.

گولان میں القنیطرہ کراسنگ کھولے جانے پر اتفاق رائے ہو گیا: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکا کی خاتون مندوب نکی ہیلی نے بتایا ہے کہ اسرائیل، شامی حکومت اور اقوام متحدہ پیر کے روز گولان کے پہاڑی علاقے میں القنیطرہ کراسنگ کو دوبارہ کھول دینے پر متفق ہو گئے ہیں۔

جمعے کے روز جاری بیان میں ہیلی کا مزید کہنا تھا کہ اس کراسنگ کے کھولے جانے سے اقوام متحدہ کی امن فوج UNDOF گولان کے پہاڑی علاقے میں معاندانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کر سکے گی۔

امریکی خاتون مندوب نے اپنے بیان میں شام سے ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا تا کہ اقوام متحدہ کی فورس محفوظ طریقے سے بنا کسی مداخلت کے گشت کر سکے۔

ہیلی کے مطابق اس اہم اقدام کے متوازی تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ 1974ء کے معاہدے کی پاسداری کریں اور مذکورہ علاقے میں اقوام متحدہ کی امن فورسز کے سوا کسی بھی عسکری فورس کی موجودگی کو روکیں۔

ستمبر کے اواخر میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ چار برس بعد اقوام متحدہ کی بین الاقوامی امن فورس کی واپسی پر القنیطرہ کی کراسنگ کھولنے کے لیے تیار ہے۔

سال 2011ء میں شام کی جنگ کے آغاز کے تین برس بعد القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے مسلح گروپوں نے مذکورہ کراسنگ کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 2014ء میں اقوام متحدہ کی فورسز وہاں سے نکل گئی تھیں۔ اب رواں برس اگست میںUNDOFنے ایک بار پھر کراسنگ کے علاقے میں اپنا گشت شروع کر دیا۔

بین الاقوامی امن فورسز کی علاقے میں واپسی ،،، شامی حکومت کی فورسز کی جانب سے روس کی معاونت سے گولان کے پہاڑی علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور سیف زون سے مسلح گروپوں کے باہر نکالے جانے کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں گولان کے زیادہ تر پہاڑی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں 1981ء میں اسرائیل نے اسے اپنی غاصبانہ ریاست میں شامل کر لیا تاہم عالمی برادری کی جانب سے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا گیا۔