.

اسرائیل روسی فوجی طیارے کے حادثے کے بعد جاری بحران ختم کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی میڈیا کے غالب گمان کے اسرائیلی حکومت روس کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے کوشاں ہے۔ اس معاہدے کا مقصد تل ابیب اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے بحران کو قابو کرنا ہے۔ اس بحران کا آغاز گزشتہ ماہ شام کے ساحل کے نزدیک روسی L-20 فوجی طیارے کے گرائے جانے کے واقعے کے بعد ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق معاہدے میں ماسکو کا یہ عزم شامل ہو گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ آمنا سامنا روکنے سے متعلق معلومات شام کو نہیں پہنچائے گا۔

اس کے علاوہ روس جدید "مگ 31" لڑاکا طیارے اور اضافی فضائی دفاعی سسٹم "بوک" ،،، شامی حکومت کو پہنچانے کے خیال سے دست بردار ہو جائے گا۔

مذکورہ ذرائع نے اس کا جواز دیتے ہوئے بتایا ہے کہ شام میں ایران کی فورس کا مضبوط ہونا روس کے مفاد میں نہیں۔ ساتھ ہی اسرائیل اس حقیقت کا اداراک رکھتا ہے کہ ماسکو اپنے حلیف بشار الاسد کے دفاع سے زیادہ اپنے ملکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق تل ابیب یہ بھی چاہتا ہے کہ روسی وزارت دفاع شام کی S-300 بیٹریز کو حمیمیم میں روسی فوج کے زیر انتظام S-400 فضائی دفاعی سسٹم کے کمپیوٹر نیٹ ورک کے ساتھ مربوط نہ کرے۔