.

بشار الاسد نے "اسلامی اوقاف" سے متعلق متنازع قانون جاری کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے وزارت اوقاف کے لیے ایک نیا قانون جاری کیا ہے۔ اس کے تحت وزیر اوقاف و اسلامی امور کے اختیارات کو وسیع کر دیا گیا ہے جو تین سال کے لیے ملک کے مفتی اعظم کا تقرّر کریں گے۔ قانون کے ذریعے وزارت اوقاف کو مالیاتی اور تعلیمی اداروں میں بھی کنٹرول حاصل ہو گا۔ اس کے علاوہ آرٹ، شو بز اور ثقافتی پروڈکشن پر بھی وزارت کا کنٹرول ہو جائے گا۔

اوقاف سے متعلق نئے قانون کے نمایاں ترین نکات یہ ہیں :

* جمعے کے آئمہ کرام، مؤذن اور دینی مدرس حضرات کے فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے پر پابندی

* سیاسی مقاصد کے لیے منبروں کا عدم استحصال

* کالعدم اور غیر اجازت یافتہ سیاسی تنظیموں کے ساتھ تعلق رکھنے پر پابندی

* وزیر اوقاف یا اُس کی تفویض کردہ شخصیت کی منظوری کے بغیر شام میں یا شام سے باہر کسی کانفرنس میں شرکت کرنے یہاں تک کہ شام سے کوچ کرنے پر بھی پابندی

اوقاف کے نئے قانون نے گزشتہ دنوں کے دوران تنازع پیدا کر دیا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک یہ مذہبی خطابت کو منظّم کرنے اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کی کاوش کا حصّہ ہے جب کہ بعض دیگر حلقوں کے مطابق وزارت اوقاف کو اس حد تک وسیع اختیارات دینے سے شام میں مذہبی ادارے مکمل طور پر حکام کی گرفت میں آ جائیں گے۔

انسانی حقوق کی شخصیات اور کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ نیا قانون ملک کے مفتی کی قیمت پر اوقاف کے وزیر اور وزارت کو وسیع اختیارات فراہم کر رہا ہے۔ اس طرح اوقاف کو اپنی انتظامیہ سے باہر دیگر سرگرمیوں میں مداخلت کا حق بھی مل جائے گا۔