.

شام : مجوزہ بفر زون سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے باوجود باغیوں کی گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی علاقے میں قائم کیے جانے والے مجوزہ بفر زون سے باغیوں نے مارٹر گولے فائر کیے ہیں۔انھوں نے شمال مغربی صوبے ادلب سے نزدیک واقع صوبہ حماہ کی جانب یہ گولہ باری بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے باوجود کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ غیر فوجی علاقے میں موجود باغیوں نے ہفتے کی شب نزدیک واقع صوبہ حماہ میں شامی فوج کے ٹھکانوں کی جانب گولہ باری کی تھی جس سے دو فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ انھوں نے غیر فوجی علاقے کے دوسرے حصوں سے صوبہ حلب کی جانب بھی گولہ باری کی تھی۔ تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

شامی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ’’ بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے بعد جنگ بندی سمجھوتے کی یہ پہلی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس غیر فوجی علاقے کو مارٹر گولوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے‘‘۔

شامی باغیوں کے حامی ملک ترکی اور صدر بشار الاسد کے پشتیبان روس کے درمیان گذشتہ ماہ ادلب میں جنگ کو روکنے کے لیے ڈیل طے پائی تھی۔اس کے تحت باغیوں اور انتہا پسند جنگجوؤں نے صوبہ ادلب کے باہر نیم دائرے کی شکل میں علاقے سے 10 اکتوبر تک اپنے بھاری ہتھیاروں کو پیچھے ہٹا لینا تھا۔

اس تاریخ تک ڈیل کی پاسداری کرتے ہوئے بھاری ہتھیاروں کو مجوزہ بفر زون سے پیچھے ہٹا لیا گیا تھا۔ترکی ، باغی دھڑوں اور شامی رصدگاہ سب نے یہ اطلاع دی تھی کہ مجوزہ غیر فوجی علاقہ بھاری ہتھیاروں سے پاک ہوچکا ہے۔

لیکن اب شام کے حکومت نواز اخبار الوطن نے بھی اس کی خلاف ورزی کی اطلاع دی ہے۔اس نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح صوبہ حلب کے مغربی حصوں کو راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری سے نشانہ بنایا گیا ہے حالانکہ ان بھاری ہتھیاروں کا وہاں سے انخلا کیا جانا تھا۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے نمایندے نے بھی حلب کے مغرب میں کئی روز کی خاموشی کے بعد مارٹر گولے فائر کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔