.

عراق : الحشد الشعبی کی جانب سے پھر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بازار گرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرکاری فورسز کی جانب سے داعش تنظیم سے واپس لیے جانے والے صوبوں پر ایک بار پھر خوف و دہشت کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

ایران نواز شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے ایک بار پھر ملک کے مغربی اور شمالی صوبوں اور بغداد بیلٹ کے علاقوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔

متنازع علاقوں میں عرب قبائل نے الحشد الشعبی ملیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے دھوک اور نینوی کے درمیان چیک پوائنٹ پر منتقل ہونے والے سامان پر چنگیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔

علاوہ ازیں شہریوں کی اندھادھند گرفتاریوں اور گزر گاہوں اور چیک پوائنٹس پر شہریوں کے ساتھ انتہائی توہین آمیز برتاؤ کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت گھروں پر چھاپوں اور جیلوں میں تشدد اور اذیت رسانی کی کارروائیوں نے شمالی اور مغربی صوبوں اور بغداد بیلٹ کے علاقوں کی آبادی کا جینا حرام کر دیا ہے۔

ان کارستانیوں کی فہرست میں بلیک میلنگ اور مالی رقوم کا تقاضا بھی شامل ہے۔ اس امر نے کئی طرح کے اندیشے پیدا کر دیے ہیں بالخصوص "داعش" تنظیم سے ملتی جلتی جماعت کے نمایاں ہونے کے حوالے سے کیوں کہ یہ ویسا ہی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے جو عراق میں داعش کے نمودار ہونے سے قبل سامنے آیا تھا۔

نینوی صوبے کے ایک پولیس ذمّے دار نے اعتراف کیا ہے کہ عراقی شہریوں نے داعش سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس آ کر نارمل زندگی اپنانے کی کوشش کی تاہم انسانی حقوق کی پامالیوں نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ مذکورہ ذمّے دار کے مطابق حکومت کو ایسے بدعنوان افسران کے بارے میں خفیہ رپورٹیں پہنچا دی گئیں جن کی ماہانہ آمدنی رشوت اور بھتّے کے نتیجے میں ایک لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

متنازع علاقوں میں عرب قبائل کے ترجمان نے عراقی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔