.

پست اور سطحی سازش کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: سلطان بن سحیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے شاہی خاندان کی اہم شخصیت شیخ سلطان بن سحیم کا کہنا ہے کہ اس وقت "ایک پست سازش اور بے بنیاد الزامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دانش مند اور مخلصین بڑے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں"۔ اُن کا اشارہ مملکت سعودی عرب کی جانب تھا جس کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد سے بعض قطری ذرائع ابلاغ کی جانب سے افواہوں اور بے بنیاد الزامات کا سامنا ہے۔ خاشقجی استنبول میں 2 اکتوبر کے بعد سے لاپتا ہیں۔

سحیم نے ہفتے کے روز اپنی ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ "دوحہ میں مسلط نظام حسب عادت جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے اور اس کی طرف سے پستی اور سطحیت کوئی حیرت کی بات نہیں"۔

ایک دوسری ٹوئیٹ میں شیخ سلطان نے باور کرایا کہ "انہوں (قطریوں) نے غداری کی، سازش کی اور شرپسند قوتوں کے ساتھ اتحاد کیا.. مگر مملکت سعودی عرب اپنی جگہ قائم و دائم اور ثابت قدم رہی.. آفرین ہے مملکت پر جس نے ان سازشوں پر صبر کا مظاہرہ کیا"۔

یاد رہے کہ ترکی کے حکام نے خاشقجی کی گم شدگی کے معاملے میں ابھی تک سامنے آنے والے دعوؤں میں سے کسی کا سرکاری طور پر ثبوت پیش نہیں کیا ہے جب کہ ترکی اور سعودی مشترکہ ٹیم معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف بن عبدالعزیز نے بعض ذرائع ابلاغ اور حکومتوں کی طرف سے خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب کو بدنام کرنے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاشقجی کو دھوکے سے استنبول کے سفارت خانے میں بلانے، اسے اغواء کرنے اور اس کے بعد تشدد کر کے قتل کرنے کے تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں۔ سعودی عرب اپنے شہریوں کے تحفظ کی خواہاں ہے۔ سعودی وزیر کے مطابق مملکت پر جمال خاشقجی کے قتل کا الزام ،،، عالمی سطح پر نفرت پھیلانے کی مذموم کوشش اور بین الاقوامی اصولوں، معاہدوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔