.

اردن اور شام کے درمیان مرکزی سرحدی گزر گاہ کو کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے شام کے ساتھ سرحد پر واقع "جابر نصیب" گزر گاہ کو آج پیر کی صبح کھول دیا۔ مرکزی اہمیت کی حامل یہ گز رگاہ تقریبا تین سال سے بند تھی۔

مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے اردن کے حکام نے اپنی جانب واقع سیاہ سرحدی پھاٹک کو کھول دیا۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز ، پولیس اور کسٹم کے دس سے زیادہ اہل کار پھاٹک کے نزدیک کھڑے تھے۔

تین برس بعد گزر گاہ کے دوبارہ کھولے جانے کے موقع پر اردن کا کوئی عہدے دار موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں شام میں داخل ہونے کے لیے اردنی گاڑیوں کی قطار بن گئی۔

اردن کی حکومت کی ترجمان اور وزیر مملکت برائے اطلاعات جمانہ غنیمات نے اتوار کی شب ایک بیان میں بتایا تھا کہ اردن اور شام کے درمیان سرحدری گزر گاہ پیر کے روز کھول دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اردن اور شام کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے مطابق "دونوں ملکوں کے بیچ روزانہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک مسافروں اور سامان کی آمد و رفت جاری رہا کرے گی"۔

معاہدے کی رُو سے اردن میں موجود دونوں ملکوں کے شہری کوچ کر کے شام جا سکے ہیں تاہم شام سے اردن آنے والے شخص کو پیشگی سکیورٹی منظوری لینے کی ضرورت ہو گی۔ سرحد عبور کرنے کی صورت میں جس ملک کے سفر کا ارادہ ہے ، اُس ملک کے اقامے یا ویزے کی ضرورت ہو گی۔

ٹرکوں اور عام گاڑیوں کے لیے صرف سرحدی اقدامات کو پورا کرنا ضروری ہو گا۔