.

حوثی ملیشیا نے ہلاکتوں پر پردہ ڈالتے ہوئے 65 ہزار زخمیوں کا اعتراف کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے چار سال قبل آئینی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد سے اب تک اپنے 65 ہزار ارکان کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان زخمیوں میں پانچ ہزار معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔

مذکورہ اعتراف حوثی ملیشیا کے زخمیوں سے متعلق ادارے کے سربراہ طہ جران کی زبانی صنعاء میں پولیس افسران کے کلب میں منعقد ایک تقریب کے دوران سامنے آیا۔

صنعاء میں تجارتی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تاجروں اور کاروباری حضرات پر لازم کر دیا ہے کہ وہ دس ارب یمنی ریال کی رقم اکٹھا کریں۔ یہ رقم حوثیوں کی انقلابی کونسل کے سربراہ کے دفتر کے ڈائریکٹر احمد حامد المعین کے براہ راست حکم پر زخمی حوثیوں کے متعلقہ ادارے کی فنڈنگ میں دی جائے گی۔

طہ جران نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ادارے کے پاس رجسٹرڈ زخمیوں کی مجموعی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے علاوہ مختلف محاذوں پر لڑتے ہوئے معذور ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہے۔

زخمیوں سے متعلق ادارے کے علاوہ حوثی ملیشیا نے ایک اور ادارہ قائم کیا ہے جو جنگ میں ہلاک ہونے والے حوثیوں کے امور سے متعلق ہے۔ اس ادارے کی ذمّے داری نئے قبرستانوں کے لیے اراضی کا حصول اور جنگ میں مارے جانے والے حوثیوں کی منتقلی اور تدفین کے علاوہ ان کی قبروں کی تزئین و آرائش ہے۔

صنعاء میں ذرائع کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنے ہلاک ہونے والے عناصر کی تدفین کے لیے حوثی ملیشیا نے یمن کے آٹھ صوبوں میں پچاس سے زیادہ قبرستان بنائے۔ ان میں سولہ قبرستان دارالحکومت صنعاء اور اس کے نواح میں جب کہ بارہ قبرستان عمران شہر اور اس کے مضافات میں ہیں۔