.

خاشقجی کیس میں "القاعدہ" بھی سعودیہ کے خلاف زہر اگلنے لگی

القاعدہ کے مبلغ ماجد الراشد ریاض کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کی پراسرار گم شدگی پر جہاں عرب ممالک اور عالم اسلام کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہاں القاعدہ جیسے گروپ خاشقجی کے معاملے کو سعودی عرب کے خلاف زہراگلنے کا قیمتی موقع سمجھ کر ریاض کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خاشقجی کی سعودی قونصل خانے سےپراسرار گم شدگی پر القاعدہ کا سعودی عرب کے خلاف متحرک ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

القاعدہ کے ایک سرکردہ مبلغ ماجد الراشد المعروف "ابو سیاف" نے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ اور فرانسیسی صدر عمانویل میکروں پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات کریں اور یہ معلوم کرائیں کہ جمال خاشقجی کے ساتھ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماھد الراشد شمالی شام میں مقیم ہے اور اکثر سعودی عرب کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔

ماجد الراشد نےمائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹوئٹر" پرامریکی اور فرانسیسی صدور سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب پر دبائو ڈالیں تاکہ خاشقجی کے معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔

ماجد الراشد نے تو سعودی عرب کی حکومت تبدیل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ فرانس اور امریکا میں سعودی اپوزیشن موجود ہے۔ ان پر مشتمل سعودی عرب کی عبوری حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ جب تک سعودی عوام اپنی مرضی کی حکومت کا انتخاب نہیں کرلیتے اس وقت تک عبوری حکومت کو کام کرنے کا اختیار دیا جائے۔

شام میں مقیم القاعدہ کے مفتی اور مبلغ ماجد الراشد "الجزیرہ" ٹی وی چینل اور کئی دوسرے چینلوں پر بھی نمودار ہوتا رہتا ہے۔

خاشقجی کے حوالے سے اس نے لکھا کہ "جمال خاشقجی رحمہ اللہ چاہے زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں، ہمیں ان کی گم شدگی کے جرم پر مسلسل آواز بلند کرنی چاہیے۔ خاشقجی کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا ہمارا فرض ہے۔

انہوں نے جمال خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ جنگیز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جب آپ کی ملاقات ٹرمپ یا کسی دوسرے عالمی لیڈر کےساتھ ہو تو انہیں کہنا کہ خاشقجی کے معاملے میں صرف باتیں نہیں عملی اقدامات کیےجائیں۔ یہ ایک عمومی حق ہے اور اس سے پسپائی کا کائی جواز نہیں۔

القاعدہ کے مبلغ نے مغربی ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مغربی میڈیا نے خاشقجی کی گم شدگی یا مجرمانہ قتل کے معاملے کی بھرپور کوریج کی ہے۔

واضح‌رہے کہ ماجد الراشد کو ایران اور قطر کا بھی حامی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے سنہ 1407ھ کو القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام کا قرب حاصل کیا۔ سنہ 2014ء کو اس نے شام میں القاعدہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی اور آج تک شام ہی میں سرگرم ہے۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی طرف سےقطر کے سفارتی، سیاسی اور معاشی بائیکاٹ پر بھی سعودیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔