.

داعش کے ہاتھوں اغواء 130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے جنگجوئوں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر "البحرہ" پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق "البحرہ" کیمپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں ہے مگر دوسری جانب ڈیموکریٹک فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سےدیر الزور بالخصوص البحرہ کیمپ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی عسکری کونسل کی ترجمان لیلویٰ العبداللہ نے بتایا کہ داعش کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ داعش کےحملوں میں ڈیموکریٹک فورسز کے متعدد اہلکار ہلکا ہوگئے ہیں۔ انہوں‌ نے بتایا کہ داعش نے حملے کے دوران ایک سو تیس خاندان اغواء کرلیے تھے۔ ان کا مستقبل نامعلوم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہمیں ان 130 خاندانوں کے انجام کے حوالے سے سخت خوف اور تشویش لاحق ہے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی بازیابی اور دہشت گردوں سے رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نےاس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان خاندانوں کو دیرالزور کی عسکری کونسل نےیرغمال بنایا ہے۔

لیلویٰ عبداللہ نے بتایا کہ داعش نے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ہے ان میں داعش کے جنگجوئوں کے خاندان اور ان کی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ڈیموکریٹک فورسز کا ان پر حملے کا کوئی جواز نہیں۔ اس طرح کےالزامات بے بنیاد ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں‌انہوں‌ نے کہا کہ دیر الزور میں داعش کو شکست دینا آسان نہیں۔ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ دہشت گرد روزانہ سخت حملے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں اور نہ داعش کے خلاف لڑائی میں انہیں کسی دوسرے گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔