.

عراق میں شکست کے ایک سال بعد داعش تنظیم کے اپنی بقا کے لیے نئے جنگی حربے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز کے داعش کے خلاف جنگ میں اعلانِ فتح کو ایک سال ہونے کو ہے لیکن ابھی تک اس ملک سے تمام داعشی جنگجوؤں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے اور انھوں نے اب اپنی بقا کے لیے عراق میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف نئے فوجی حربے آزمانا شروع کردیے ہیں۔

مسلح گروپوں سے متعلق امور کے ماہر ڈاکٹر ہاشم الہاشمی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ داعش نے گذشتہ سال اکتوبر میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد سے نئے جنگی حربے اختیار کررکھے ہیں اور وہ ان علاقوں میں جنگی کارروائیاں کررہے جہاں ہنوز امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ وہ فرقہ واریت کے بیج بونے کے لیے بھی کوشاں ہیں اور وہ اقلیتوں کی آبادی والے علاقوں میں جنگجوؤں کو بھیج رہے ہیں۔

اغوا اور چوری کی وارداتوں سے رقوم کا حصول

ڈاکٹر ہاشمی نے داعش کی اقتصادی سرگرمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے اب چوری اور اغوا کی وارداتوں اور بلیک میل کے ذریعے اپنے مالی وسائل خود پیدا کرنا شروع کردیے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب انھیں بیرون ملک سے رقوم وصول نہیں ہورہی ہیں۔اس کے علاوہ وہ عراق اور شام میں تیل کی غیر قانونی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق داعش نے قریباً چار کروڑ ڈالرز کی رقم عراق اور شام سے باہر بھیج دی تھی ۔اب وہ منی لانڈرنگ کی کارروائیوں کے ذریعے اپنے مالی وسائل میں اضافے کےلیے کوشاں ہے۔

ڈاکٹر ہاشمی بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب داعش کا شام کے 48 فی صد اور عراق کے 32 فی صد علاقے پر کنٹرول تھا لیکن اب اس کا شام میں صرف دو فی صد علاقے پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے اور اس کی تنظیمی صلاحیت بھی 32 ریاستوں سے کم ہوکر صرف چھے ریاستوں تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔

داعش کے تین دیوان

وہ مزید بتاتے ہیں کہ داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے تنظیم میں اپنے نو دیوانوں کے عہدے ختم کردیے ہیں اور اب ان کے صرف تین دیوان ہیں ۔ ان میں فوجی امور سے متعلق دیوان الجند ، سکیورٹی اور سراغرسانی کے امور کا ذمے دار دیوان اور مالی اور انتظامی امور کا دیوان شامل ہیں۔

داعش کی کمیٹیا ں اب محض مشاورتی ادارے کے طور پر کام کررہی ہیں۔انھیں قوتِ نافذہ کا اختیار حاصل نہیں رہا ہے۔انتظامی اور مالیاتی شعبوں کو غیر مرکزی کردیا گیا ہے اور اب اس جنگجو گروپ کے اہداف کا انتخاب فوجی کمانڈروں کے بجائے سکیورٹی کمانڈر کرتے ہیں۔

دریں اثناء عراق کے صوبے دیالا سے تعلق رکھنے والے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ اس صوبے میں داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کی تعداد صرف 70 تک رہ گئی ہے۔ان میں زیادہ تر صوبائی دارالحکومت بعقوبہ سے 55 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع حمرین میں موجود ہیں۔ان کے بہ قول گذشتہ سال کے مقابلے میں داعش کی سرگرمیوں میں بھی 70 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔