.

اقتصادی استحکام کے لحاظ سے سعودی عرب خطّے کے ممالک میں سرِفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب خطّے کے ممالک میں اقتصادی استحکام کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ یہ بات عالمی اقتصادی فورم WEF کی جانب سے جاری 2018ء کی عالمی مسابقتی رپورٹ"GCR"میں سامنے آئی ہے۔

اقتصادی مسابقت کے عالمی انڈیکس میں سعودی عرب کی 140 ممالک میں 39 ویں پوزیشن ہے۔ سال 2012ء کے بعد سے یہ ممالک کی ترتیب میں مملکت کی سب سے بہتر ترقی ہے۔

رپورٹ میں سعودی عرب کی معیشت کے استحکام پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مملکت کی معیشت بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

سال 2018ء کے لیے جاری عالمی رپورٹ میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور کویت کو 100 فی صد اقتصادی استحکام کے ساتھ انڈیکس میں "مکمل درجہ" دیا گیا ہے۔ یہ درجہ حاصل کرنے والے دیگر اہم عالمی ممالک میں جرمنی ، کینیڈا، ڈنمارک اور برطانیہ شامل ہیں۔

انڈیکس کی درجہ بندی سعودی عرب میں افراط زر پر کنٹرول اور ملکی کرنسی کی قیمت کے تحفظ کے لیے مالیاتی پالیسیوں کے فعّال ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

پبلک سیکٹر کی کارکردگی کے حوالے سے انڈیکس میں سعودی عرب نے 22 ویں پوزیشن حاصل کی ہے جو چین، کینیڈا، آسٹریلیا اور فرانس سے اوپر ہے۔

عالمی مسابقتی انڈیکس میں سعودی عرب کی ترتیب :

* دو درجہ بہتر ہو کر عالمی فہرست میں 39 ویں نمبر پر آ گیا

* سال 2012ء کے بعد مملکت کی درجہ بندی میں سب سے بہتر ترقی

* اقتصادی استحکام کے انڈیکس میں 100 / 100 کا تناسب

* سکیورٹی کے شعبے میں 23 ویں اور کمپنیوں کی کارپوریٹ گورننس میں 11 ویں پوزیشن

* پبلک سیکٹر کی کارکردگی کے میدان میں عالمی فہرست میں 22 ویں پوزیشن