.

حوثی ملیشیا امدادی بحری جہاز یمن تک پہنچنے سے روک رہی ہے: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے سرگرم عرب اتحاد نے ایک بار پھر یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر امدادی سرگرمیوں میں رخنہ اندازی کا الزام عاید کیا ہے۔ عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا امدادی بحری جہازوں کو یمن کی بندرگاہوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں تاکہ وہ بلیک مارکیٹ کے ذریعے شہریوں کو مہنگے داموں تیل اور دیگر اشیاء فراہم کرکے اپنی مالی کمی پوری کرسکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ترجمان کرنل پائلٹ ترکی المالکی نے الریاض میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حوثی ملیشیا امدادی سامان اور پٹرولیم مصنوعات لے کرآنے والے بحری جہازوں کو یمن کی بندرگاہوں تک رسائی دینے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں‌نے بتایا کہ یمن کی سرکاری فوج اور عرب اتحاد جنگ زدہ یمنی علاقوں کو امداد اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 مارچ 2015ء سے 16 اکتوبر 2018ء تک عرب اتحاد نے امدادی جہازوں اور پٹرولیم مصنوعات یمن لے جانے والی کشتیوں کو 32445 پرمٹ جاری کیے جب کہ امدادی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کے 14926 احکامات جاری کیے گئے۔

پریس کانفرنس میں کرنل المالکی نے ایسی فوٹیجز پیش کیں جن سے حوثی ملیشیا کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تصدیق ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمن میں اپنے جرائم کے فروغ کے لیے مساجد، مدارس، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے۔ شہری آبادیوں کے اندر بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا کر معصوم شہریوں کی موت کا سامان کیا جا رہا ہے۔

عرب اتحاد نے باغیوں کے قبضے سے برآمد کیا گیا اسلحہ اور گولہ بارود بھی دکھایا۔ اس اسلحہ میں ایرانی ساختہ ہتھیار بھی شامل تھے۔

’راس الجبل‘ واقعے کی تحقیقات

عرب اتحادی فوج کے ترجمان کرنل المالکی نے غلطی سے"راس الجبل" کے مقام پر عام شہریوں کے نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب اتحادی فوج پوری ذمہ داری اور احتیاط کےساتھ یمن میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کرتی ہے اور شہریوں کا کم سے کم جانی نقصان یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے یمن کے سیلاب زدہ علاقے المھرہ میں شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے جاری امدادی آپریشن کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ عرب اتحاد یمن میں جنگ سے متاثرہ اور سیلاب کے نتیجے میں متاثر ہونے والے شہریوں کی ہرممکن مدد کررہا ہے۔