.

خاشقجی کیس سے متعلق ریکارڈنگ کسی دوسرے فریق کو نہیں دی :ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد پراسرار طورپر لاپتا ہونے والے صحافی جمال خاشقجی سےمتعلق ریکارڈنگ کسی دوسرے فریق کو دی اور نہ ہی دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت خاشقجی کیس سے متعلق جاری تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھے گی۔

قبل ازیں ترک اخبار "صباح" کے واشنگٹن میں نامہ نگار راغب صیلو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کے پاس جمال خاشقجی کے مبینہ قتل سے متعلق کوئی آڈیو یا ویڈیو ثبوت نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک حکام کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ پتا چلے کہ جمال خاشقجی کو سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے۔

راغب صویلو کا کہنا تھا کہ ترکی کےذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس خاشقجی کے قتل کے صوتی اور ویڈیو ثبوت ہیں مگر ایسا کچھ نہیں۔

قبل ازیں ترکی کے "صباح" اخبار نے بتایا تھا کہ حکام کو تین منٹ کی فوٹیج ملی ہے جس میں خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں تشدد کے بعد قتل کا ثبوت ملتا ہے۔