.

فلسطینی نژاد امریکی طالبہ نے اسرائیل میں داخلے کی قانونی جنگ جیت لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اُس فیصلے کو منسوخ کر دیا جس کے تحت ایک فلسطینی نژاد امریکی طالبہ کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ مذکورہ لڑکی لارا القاسم (22 سالہ) نے عبرانی ریاست کے بائیکاٹ کی مہم کو سپورٹ کیا تھا۔

لارا دو اکتوبر کو تل ابیب ایئرپورٹ پہنچی تھی تو اس کے پاس مقبوضہ بیت المقدس میں Hebrew University میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزا موجود تھا۔ تاہم لارا کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

اس کے نتیجے میں امریکی طالبہ نے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ لارا کو مک میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم "ناقابل قبول ہے اور اسے منسوخ کیا جاتا ہے"۔

لارا القاسم نے 2017ء میں فلوریڈا میں تعلیم کے حصول کے دوران اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی ایک تنظیم Students for Justice in Palestine کی ذیلی شاخ کی قیادت کی تھی۔ تاہم بعد ازاں لارا نے بتایا تھا کہ اس نے تنظیم کو چھوڑ دیا ہے۔

بیت المقدس میں Hebrew University نے جہاں لارا تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، اسرائیلی حکام کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یونیورسٹی کے مطابق غیر ملکی طلبہ کا وجود اسرائیلی اداروں کے لیے "آکسیجن" کی خوراک کے مترادف ہے اور ان کی موجودگی بائیکاٹ کی مہم کا سامنا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔