.

مصرمیں انٹرنیٹ نے خاندانی نظام تباہ کر دیا،طلاق کے رحجان میں اضافہ

طلاق کے ماہانہ اوسطاً 4800 کیسز سامنے آ رہے ہیں: مفتی مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں طلاق کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مصری دارالافتاء کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہانہ طلاق کے 4000 سے 4800 تک واقعات رجسٹرڈ ہو رہے ہیں۔ مفتی اعظم مصر نے کہا ہے کہ ملک میں طلاق کے بڑھتے رحجان کا ایک بڑا سبب انٹرنیٹ ہے جس نے معاشرے میں‌ خاندانی نظام کو برباد کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طلاق کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلاق جیسا ناپسندیدہ عمل قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔خاندانی نظام کو مربوط رکھنے کے لیے شرعی نظام کا کوئی متبادل سسٹم نہیں۔

ڈاکٹر شوقی علام کا کہنا تھا کہ طلاق کے رحجان میں اضافہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ مصر میں شادی کے پانچ سال کے اندر طلاق کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ خطرناک رحجان ہے۔

مصر کے مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں طلاق کے رحجان میں کمی لانے کے لیے لوگوں میں دینی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام کو مربوط رکھنے میں معاونت کرنے والے اداروں کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق مصر میں طلاق کی ایک وجہ انٹرنیٹ کا استعمال ہے۔ انٹرنیٹ میاں بیوی کےدرمیان تعلقات پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے اور دور جدید میں طلاق کے دیگر محرکات میں یہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔