.

مقتول کرنل قذافی کا قریبی ساتھی سات سال بعد لیبیا کی جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی وفاق حکومت نے کرنل قذافی کے ایک قریبی ساتھی اور سابق رجیم کے سینیر فوجی عہدیدار میجر جنرل المہدی العربی کو کل جمعرات کو رہا کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل العربی سات سال تک لیبیا کی الزاویہ جیل میں قید رہے۔ انہیں خرابی صحت کے بعد رہا کیا گیا ہے۔

مہدی العربی کو لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی وزارت انصاف کے حکم پرانسانی بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ان کےو کلاء کی طرف سے ان کی صحت کی خرابی سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں المہدی کی صحت پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں کی اپیل پر انسانی جذبے کے تحت کرنل قذافی کے ساتھی کو جیل سے رہا کرنے کے بعد انہیں بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ میجر جنرل مہدی العربی کا شمار کرنل قذافی دور میں ان کی فوج کے چوٹی کے عہدیداروں میں ہوتا تھا۔ وہ کئی سال تک لیبیا کی فوج کے سربراہ رہے۔ وہ فوج میں‌بھرتی، کمانڈ اور کنٹرول کے سربراہ کے ساتھ مغربی دفاعی زون کے بھی انچارج رہ چکے ہیں۔ انہیں کرنل معمر قذافی کے دور میں فوج کے حساس عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔

کرنل قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد ستمبر 2011ء کو میجر جنرل مہدی العربی کو دارالحکومت طرابلس سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں الزاویہ جیل منتقل کیا گیا جہاں ان پر مظاہرین کے قتل کا حکم دینےسمیت کئی دوسرے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ انہیں سات سال سے زاید عرصہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جنرل المہدی العربی قذافی رجیم کی دوسری اہم شخصیت ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے رہا کیا ہے۔ اس سے قبل لیبیا کی قومی وفاق حکومت نے سابق انٹیلی جنس چیف عبدالحمید اوحیدا عمار اور بیرون ملک انٹیلی جنس کے انچارج ابو زید دورہ کو جون میں جیل سے رہا کردیا تھا۔