.

امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے انتخابات میں روسی ایرانی مداخلت کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں آئندہ ماہ کانگریس کے وسط مدتی انتخابات اور 2020ء کے صدارتی انتخابات میں روس، چین، ایران اور غیر ملکی جماعتوں کی مداخلت کی کوششوں کے حوالے سے اب بھی تشویش لاحق ہے۔

جمعے کے روز قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے دفتر، وزارت انصاف، ایف بی آئی اور داخلہ سکیورٹی کی وزارت نے واضح کیا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ کوئی بھی فریق اس حد تک مداخلت کے درجے پر نہیں پہنچا کہ وہ ووٹنگ کو روک دے یا نتائج میں تبدیلی لے آئے۔

سکیورٹی اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں بتایا ہے کہ پولنگ مراکز کو چلانے والی بعض ریاستی اور مقامی حکومتوں نے آگاہ کیا کہ ان کے نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کی کوششیں کی گئیں تاہم ذمّے داران ان کوششوں کو ناکام بنا دینے میں کامیاب ہو گئے۔

امریکا نے جمعے کے روز ایک روسی خاتون Elena Alekseevna Khusyaynova پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ اُس نے سوشل میڈیا پر ایک پروپیگندا مہم کے لیے مالی رقوم فراہم کیں۔ اس مہم کا مقصد چھ نومبر کو مقررہ قانون ساز اور مقامی انتخابات کے دوران اثر انداز ہونا تھا۔

اس طرح 44 سالہ مذکورہ روسی خاتون وہ پہلی شخصیت ہے جس پر امریکا میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔